رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ اگر 8 فروری کو عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے تو مذاکرات کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کی بات درست ہے کہ اس وقت حکومت کو مذاکرات کی فوری ضرورت نہیں، تاہم یہ ضرورت اس وقت پیدا ہوگی جب حکومت کو پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا حقیقی دباؤ محسوس ہوگا۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے احتجاج پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور اگر اس دن عوام کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے تو مذاکرات کے امکانات مضبوط ہوں گے، جبکہ احتجاج ناکام ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کو کم از کم چھ ماہ تک سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بحالی ضروری ہے، تاکہ ان کے اہلِ خانہ اور ڈاکٹرز کو ان تک رسائی حاصل ہو سکے۔
8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تاحال کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔ اگر شٹر ڈاؤن کی بات کی جا رہی ہے تو اتوار کے دن پہلے ہی بیشتر کاروبار بند ہوتے ہیں، اس لیے اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے بغیر ایوان نامکمل رہتا ہے، جبکہ اپوزیشن قیادت کی تقرری میں پانچ ماہ لگے، حالانکہ یہ عمل پہلے ہی مکمل کیا جا سکتا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

(جاری ہے)

نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان