8 فروری کو عوام نکلے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ اگر 8 فروری کو عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے تو مذاکرات کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کی بات درست ہے کہ اس وقت حکومت کو مذاکرات کی فوری ضرورت نہیں، تاہم یہ ضرورت اس وقت پیدا ہوگی جب حکومت کو پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کا حقیقی دباؤ محسوس ہوگا۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ 8 فروری کے احتجاج پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور اگر اس دن عوام کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے تو مذاکرات کے امکانات مضبوط ہوں گے، جبکہ احتجاج ناکام ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کو کم از کم چھ ماہ تک سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی بحالی ضروری ہے، تاکہ ان کے اہلِ خانہ اور ڈاکٹرز کو ان تک رسائی حاصل ہو سکے۔
8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تاحال کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔ اگر شٹر ڈاؤن کی بات کی جا رہی ہے تو اتوار کے دن پہلے ہی بیشتر کاروبار بند ہوتے ہیں، اس لیے اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے بغیر ایوان نامکمل رہتا ہے، جبکہ اپوزیشن قیادت کی تقرری میں پانچ ماہ لگے، حالانکہ یہ عمل پہلے ہی مکمل کیا جا سکتا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔