ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ نہیں لے سکتا، چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ڈیووس (نیوز ڈیسک) چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ نہیں لے سکتا۔
عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں چینی مندوب کا کہنا تھا کہ تحفظاتی پالیسیوں سے عالمگیریت کو چیلنجز کا سامنا ہے، چین غیر یقینی صورتحال میں یقین دہانی فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف دنیا کی فیکٹری بننے کیلئے تیار ہے بلکہ عالمی مارکیٹ بھی فراہم کرے گا، چینی مندوب نے خطاب میں ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے جواب میں چین کا اقوام متحدہ کیلئے مضبوط حمایت کا اعادہ گیا۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کے بین الاقوامی نظام کے ساتھ کھڑا ہے، عالمی صور تحال جیسی بھی ہو چین اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ کھڑا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی ملک کے ساتھ اثر ورسوخ کا مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اقوام متحدہ کے نظام کو قائم رکھنا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔