دنیا میں پانی کا بحران عالمی دیوالیہ پن کی حالت میں داخل ہوچکا: اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پانی کا بحران عالمی دیوالیہ پن کی حالت میں داخل ہوچکا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے محققین کی جانب سے جاری نئی فلیگ شپ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائنسدان، پالیسی ساز اور میڈیا کئی دہائیوں سے ’’پانی کے عالمی بحران‘‘ بارے خبردار کرتے آئے ہیں جس کا مطلب پانی کی قلت کے حوالے سے عارضی جھٹکا لیا جاتا ہے جس کے بعد بحالی ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب بہت سے خطوں میں پانی کی مستقل قلت کی ایسی صورتحال سامنے آرہی ہے جس کے تحت پانی کے نظام اب حقیقت پسندانہ طور پر اپنی تاریخی بنیادوں پر واپس نہیں جا سکتے۔
یو این یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر کاویہ مدنی نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں پانی کے حوالہ سے’’نارمل‘‘ یعنی معمول کی صورتحال ختم ہو چکی ہے۔
یو این یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر کاویہ مدنی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس انکشاف کامقصد ناامیدی اور مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی اور موجودہ صورتحال میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے تحفظ کے اقدامات کرنا ہے۔
کاویہ مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مندرجات میں دنیا بھر میں پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی کی بات تو نہیں لیکن صورت حال کافی حد تک دیوالیہ پن یا اس کے قریب کی ہے جو تجارت، نقل مکانی اور جغرافیائی سیاسی انحصار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ کہ عالمی خطرے کا منظر نامہ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے اثرات غیر متناسب طور پر چھوٹے کسانوں، مقامی لوگوں، کم آمدنی والے شہری باشندوں، خواتین اور نوجوانوں پر پڑتے ہیں جبکہ زیادہ استعمال کے فوائد اکثر زیادہ طاقتور عناصر سمیت لیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پانی کے دیوالیہ پن سے مراد قابل تجدید آمد و رفت اور محفوظ کمی کی حد سے زیادہ پانی کو نکالنا اور آلودہ کرنا ہے، ناقابل واپسی سے مراد پانی سے متعلقہ قدرتی وسائل کے کلیدی حصوں مثلاً ویٹ لینڈز اور جھیلوں کو پہنچنے والا نقصان ہے جوآبی نظام کی ابتدائی حالتوں میں بحالی کو ناقابل عمل بناتی ہے۔
کاویہ مدنی نے کہا کہ دیوالیہ پن پانی کی قلت کے عمل کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ ایک منظم بحالی کے منصوبے کا آغاز ہے جس میں پانی کے ضیاع کو روکا جاتا ہے، ضروری خدمات کی حفاظت کی جاتی ہے اور غیر پائیدار دعووں پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور تعمیر نو میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پانی کی قلت دیوالیہ پن میں پانی پانی کے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم