ٹھٹھہ: ایک ماہ سے پانی کی بندش کے خلاف آبادگاروں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹھٹھہ(نمائندہ جسارت )ٹھٹھہ کی نہری شاخوں میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل پانی کی بندش کے خلاف ٹھٹھہ تحصیل کے آبادگاروں نے مکلی بائی پاس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دے دیا، مقامی آبادگار رہنماؤں رحیم بخش بروہی، شاہنواز بروہی، طاہر درس، ستار جوکھیو، غلام قادر پلیجو اور دیگر کی قیادت میں سینکڑوں مظاہرین نے مکلی بائی پاس کے مقام پر مرکزی قومی شاہراہ پر دھرنا دے کر پانی کی قلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ متاثرہ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ دانستہ طور پر پانی کی قلت پیدا کرکے ٹھٹھہ کی نہری شاخوں کو بند رکھا گیا ہے، جس کے باعث تیار فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔احتجاج کرنے والے آبادگاروں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ آبپاشی کی بدانتظامی کے باعث تمام نہری شاخوں میں ایک ہی وقت میں پانی بند کرکے آبادگاروں کا زرعی استحصال کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا بادگاروں پانی کی
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔