دورہ جات قرآن کیلیے منظم منصوبہ بندی ناگزیر ہے‘حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے رحیم یار خان کے دورے کے دوران قرآن انسٹیٹیوٹ میں مدرسات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک قرآن کے ساتھ تجدیدِ عہد کا مہینہ ہے۔ دورہ قرآن محض مطالعہ نہیں بلکہ قرآن کو زندگی کا رہنما بنانے کی شعوری کوشش ہے۔ اگر ہم رمضان میں قرآن کو سمجھنے، اس پر غور کرنے اور اس کی ہدایات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا عزم کرلیں تو یہی عمل فرد سے لے کر معاشرے تک حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے دورہ قرآن کی تیاری کے بارے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دورہ قرآن کی کامیابی کے لیے منظم منصوبہ بندی، خلوصِ نیت، مسلسل حاضری اور عملی اطلاق کا ذہن ہونا ناگزیر ہے۔ ہمیں قرآن کو صرف پڑھنے کے بجائے اسے سمجھ کر اپنی ذات، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین قرآن فہمی کے ذریعے نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین پاکستان ثمینہ سعید نے اپنے خطاب میں قرآن کی تعلیم کے ذریعے نظامِ زندگی میں تبدیلی اور رائے عامہ کی تیاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ جب تک قرآن کی تعلیم کو فرد کی سوچ اور معاشرے کے اجتماعی شعور کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، نظام میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دورہ قرآن کے ذریعے ہم شعوری طور پر ایسی رائے عامہ تشکیل دے سکتے ہیں جو ظلم، ناانصافی اور اخلاقی بگاڑ کے مقابل قرآن کے عادلانہ اور فطری نظام کی داعی ہو۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جو ایک صالح اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ثمینہ سعید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حلقہ خواتین قرآن کی تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے میں فکری بیداری، اخلاقی استحکام اور نظام کی اصلاح کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔پروگرام میں اساتذہ، طالبات اور ذمے داران کی بڑی تعداد شریک تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔