ٹرمپ کی محنت رنگ لے آئیں؛ امریکا عالمی ادارۂ صحت سے علیحدہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکا باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت سے علیحدہ ہونے جا رہا ہے جس کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2020 سے کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت اس کے ایک سال بعد سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے اپنی نئی مدتِ صدارت کے پہلے دن ایک ایگزیکیٹو آرڈر کے ذریعے ڈبلیو ایچ او سے نکلنے کی ہدایت دی تھی۔
امریکی قانون کے تحت کسی بھی بین الاقوامی ادارے سے نکلنے کے لیے ایک سال کا پیشگی نوٹس دینا اور تمام بقایا واجبات ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
چونکہ صدر ٹرمپ نے 22 جنوری 2025 کو حکم نامہ جاری کیا تھا اس لیے ایک سال مکمل ہونے پر آج ڈبلیو ایچ سے امریکا کی علیحدگی ہوگئی تاہم باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔
امریکا نے ایک سال قبل اطلاع دینے کا قانونی تقاضہ تو پورا کردیا لیکن اب تک واجبات کی ادائیگی نہیں کی جس کے باعث اس عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے 2024 اور 2025 کے واجبات ابھی تک ادا نہیں کیے جن کی مجموعی رقم تقریباً 26 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
اس حوالے سے جب رائٹرز نے امریکی وزارت خارجہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی تو جواب دینے سے گریز کیا گیا۔
خیال رہے کہ فروری میں ہونے والے عالمی ادارۂ صحت کے ایگزیکیٹو بورڈ اجلاس میں رکن ممالک امریکا کی ممکنہ علیحدگی اور اس کے طریقہ کار پر غور کریں گے۔
دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے امریکا سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی خود امریکا کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور پوری دنیا کے لیے بھی ہے۔
ڈائریکٹر ڈبلیو ایچ او نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ امریکا اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا اور عالمی ادارۂ صحت کا حصہ بنا رہے گا۔
ادھر امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ڈبلیو ایچ او اب دیگر پرانے اداروں کی طرح بیوروکریسی، مفادات کے ٹکراؤ اور عالمی سیاست میں الجھ چکا ہے۔
عالمی سطح پر صحت کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر مالی معاونت کرنے والے گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس نے رائٹرز کو بتایا کہ مجھے توقع نہیں کہ امریکا ڈبلیو ایچ او میں واپس آئے گا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلی بار 2020 میں بھی امریکا کو ڈبلیو ایچ او سے نکالنے کا عمل شروع کیا تھا تاہم اُن کے پیشرو صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
تاہم جب ڈونلڈ ٹرمپ 2025 میں ایک بار پھر امریکی صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے پہلے ہی دن ڈبلیو ایچ او سے نکلنے کا عمل شروع کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا ڈبلیو ایچ او کی بڑی مالی معاونت کرتا ہے اور اس کی علیحدگی سے عالمی صحت کے پروگراموں، ویکسین مہمات، وباؤں سے نمٹنے کی حکمت عملی اور دیگر صحت منصوبوں پر پڑ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈبلیو ایچ او عالمی ادارہ ایک سال کے لیے
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔