سیکریٹری جنرل کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر معروف بن رؤف نے اپنے خطاب میں طلباء کے شعور اور جرات مندانہ موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعات ہمیشہ سے حق و انصاف کی آواز رہی ہیں اور آج کے طلباء فلسطین کے مسئلے پر واضح اور مضبوط مؤقف رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس او پاکستان کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں جاری برائت از استعمار مہم کے سلسلے میں طلباء الائنس جامعہ کراچی کے تحت پوائنٹ ٹرمینل سے فارمیسی چوک تک ایک پُرامن احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریلی نام نہاد "غزہ امن معاہدے" کے خلاف منعقد کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں طلباء و طالبات نے جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔ احتجاجی ریلی کا مقصد فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی، غزہ پر جاری صہیونی جارحیت کی مذمت اور عالمی استعمار خصوصاً امریکی سامراج کی دوغلی پالیسیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ شرکائے ریلی نے فلسطین کے حق میں اور استعمار کے خلاف پُراثر نعرے لگائے اور پلے کارڈز و بینرز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ریلی میں نام نہاد غزہ امن معاہدے میں پاکستان کی کسی بھی سطح پر شرکت یا حمایت کی سخت مخالفت کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کے حق میں واضح اور دوٹوک رہا ہے، لہٰذا کسی ایسے معاہدے کا حصہ بننا جو صہیونی مظالم کو تقویت دے، قومی اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ غزہ کے نام نہاد امن معاہدے درحقیقت صہیونی مظالم کو تحفظ فراہم کرنے کی سازش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی جدوجہد آزادی عالمی استعمار کے خلاف ایک تاریخی مزاحمت ہے، جسے کسی بھی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔ سیکریٹری جنرل کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر معروف بن رؤف نے اپنے خطاب میں طلباء کے شعور اور جرات مندانہ موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعات ہمیشہ سے حق و انصاف کی آواز رہی ہیں اور آج کے طلباء فلسطین کے مسئلے پر واضح اور مضبوط مؤقف رکھتے ہیں۔ سر ذیشان نے عالمی سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دنیا بھر میں جنگوں، قتلِ عام اور عدم استحکام کو فروغ دیا، اور آج فلسطین بھی انہی استعماری پالیسیوں کا شکار ہے۔

صدر آئی ایس او جامعہ کراچی اظہر حسین نے کہا کہ آئی ایس او پاکستان ہمیشہ مظلوم اقوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور برائت از استعمار مہم اسی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلباء فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس سے صہیونی مظالم کو جواز ملتا ہو۔ جنرل سیکریٹری اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ کراچی حذیفہ صدیقی نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے، اور طلباء تنظیموں کا اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان نسل استعمار کے خلاف بیدار ہو چکی ہے۔ احتجاجی ریلی پُرامن انداز میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطین کی آزادی، پاکستان کے اصولی مؤقف کے تحفظ اور عالمی استعمار کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: استعمار کے خلاف احتجاجی ریلی جامعہ کراچی فلسطین کے میں طلباء نے کہا کہ نام نہاد

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل