کراچی کے علاقے صدر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے افسوس ناک واقعے کا سارا ملبہ پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی پر ڈال دیا۔

سندھ کے سينئر وزير اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ جیسے افسوسناک قومی سانحے کو چند سیاسی جماعتیں سیاست کی نذر کر رہی ہیں،  لوگوں کے دکھ درد بانٹنے کے بجائے عوام کی تکلیف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

 ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ کی تعمیر، منظوری اور قانونی معاملات ایسے ادوار میں ہوئے جب سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں تھا، یہ تمام فیصلے اس وقت کی شہری حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری تھی۔

 انہوں نے کہا کہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو گل پلازہ کی تعمیر کی درخواست 1979 میں موصول ہوئی تھی، گل پلازہ کی تعمیر کی منظوری 1983 میں دی گئی جب میئر جماعت اسلامی کے عبد الستار افغانی تھے۔

مزید پڑھیں

سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کے روزگار کی بحالی کا عارضی ماڈل تیار

سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کیلیے ایم کیو ایم کا وزیراعظم کو ہنگامی خط

شرجيل انعام میمن نے کہا کہ زمین 1884 میں 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی جس کی مدت 1983 میں ختم ہو چکی تھی،  لیز کو آٹھ سال بعد 1991 میں دوبارہ تجدید کیا گیا جب میئر ڈاکٹر فاروق ستار تھے، ان کا دستخط ریکارڈ پر موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی نقشے میں بیسمنٹ اور دو منزلوں کی اجازت دی گئی تھی، 1998 میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تیسری منزل کی درخواست بھی منظور کی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پلازہ سے متعلق تمام بے ضابطگیوں کو 2003 میں باقاعدہ طور پر ریگولرائز کیا گیا، اس وقت کراچی کے میئر نعمت اللہ خان تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات اٹھارہویں آئینی ترمیم سے پہلے کیے گئے جب بلدیاتی ادارے براہ راست ذمہ دار تھے، گل پلازہ کے تمام قانونی و انتظامی فیصلے جماعت اسلامی کی قیادت میں بلدیاتی حکومتوں کے تحت کیے گئے، اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انعام میمن نے کہا جماعت اسلامی گل پلازہ کی نے کہا کہ

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی