سانحہ گل پلازہ؛ سندھ حکومت کا کوئی کردار نہیں، پیپلز پارٹی نے سارا ملبہ جماعت اسلامی پر ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے صدر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے افسوس ناک واقعے کا سارا ملبہ پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی پر ڈال دیا۔
سندھ کے سينئر وزير اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ جیسے افسوسناک قومی سانحے کو چند سیاسی جماعتیں سیاست کی نذر کر رہی ہیں، لوگوں کے دکھ درد بانٹنے کے بجائے عوام کی تکلیف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ کی تعمیر، منظوری اور قانونی معاملات ایسے ادوار میں ہوئے جب سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں تھا، یہ تمام فیصلے اس وقت کی شہری حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری تھی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو گل پلازہ کی تعمیر کی درخواست 1979 میں موصول ہوئی تھی، گل پلازہ کی تعمیر کی منظوری 1983 میں دی گئی جب میئر جماعت اسلامی کے عبد الستار افغانی تھے۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کے روزگار کی بحالی کا عارضی ماڈل تیار
سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کیلیے ایم کیو ایم کا وزیراعظم کو ہنگامی خط
شرجيل انعام میمن نے کہا کہ زمین 1884 میں 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی جس کی مدت 1983 میں ختم ہو چکی تھی، لیز کو آٹھ سال بعد 1991 میں دوبارہ تجدید کیا گیا جب میئر ڈاکٹر فاروق ستار تھے، ان کا دستخط ریکارڈ پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی نقشے میں بیسمنٹ اور دو منزلوں کی اجازت دی گئی تھی، 1998 میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تیسری منزل کی درخواست بھی منظور کی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پلازہ سے متعلق تمام بے ضابطگیوں کو 2003 میں باقاعدہ طور پر ریگولرائز کیا گیا، اس وقت کراچی کے میئر نعمت اللہ خان تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات اٹھارہویں آئینی ترمیم سے پہلے کیے گئے جب بلدیاتی ادارے براہ راست ذمہ دار تھے، گل پلازہ کے تمام قانونی و انتظامی فیصلے جماعت اسلامی کی قیادت میں بلدیاتی حکومتوں کے تحت کیے گئے، اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انعام میمن نے کہا جماعت اسلامی گل پلازہ کی نے کہا کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔