ویوز کےلیے بیٹی کو استعمال کرنے پر فضا علی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پاکستانی کلینیکل ماہرِ نفسیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ماہین انوری نے اداکارہ اور میزبان فضا علی کے حوالے سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے پیرنٹنگ انداز پر سخت تنقید کی ہے۔
ماہین کا کہنا ہے کہ والدین کی جانب سے بچوں کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنا مستقبل میں ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
فضا علی انسٹاگرام پر اپنی روزمرہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی دس سالہ بیٹی فرال فواد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہیں۔
حالیہ دنوں ماہین انوری نے اپنے اکاؤنٹ پر فضا علی اور ان کی بیٹی کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس رجحان کو دیکھ کر شدید مایوسی محسوس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق والدین، خصوصاً مائیں، ویوز اور توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی کمسن بچیوں کو سامنے لا رہی ہیں جو تشویش ناک ہے۔
ماہرِ نفسیات نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایک مثال بھی دی اور بتایا کہ پندرہ سالہ لڑکی، جس سے انہوں نے بات کی، اپنی والدہ کے رویے کے باعث ذہنی دباؤ اور مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی معصومیت کو سوشل میڈیا مواد بنانے سے گریز کریں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے فضا علی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوچنا چاہیے کہ اس طرزِ عمل سے بچوں کو کس حد تک گہرے نفسیاتی اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی جہاں کچھ صارفین نے بچوں کے تحفظ پر بات کرنے پر ماہرِ نفسیات کو سراہا، جبکہ دیگر افراد اداکارہ فضا علی کے حق میں سامنے آئے اور ان کے مؤقف کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا فضا علی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔