قاضی احمد ،پریس کلب کے جنرل سیکرٹری کے گھر ڈکیتی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قاضی احمد( نمائندہ جسارت )قاضی احمد کی گنجان آباد علاقے آفتاب کالونی کے رہائشی اور پریس کلب قاضی احمد کے جنرل سیکرٹری آفتاب جتوئی کے گھرمیں رات دیر گئے نامعلوم مسلح ڈکیت چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھرکی دیوار پھلاند کراندرداخل ہوئے اوراسلحے کے زور پر زیورات نقدی موبائل فون اور نئی سی ڈی موٹر سائیکل لوٹ کر لواحقین کے شورمچانے پرفرار ہوگئے ایسی اطلاع قاضی احمد تھانے پر درج کرائی گئی ہے ایس ایچ او قاضی احمد نے پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر مکینوں سے تفصیلات اکٹھی کرکے متاثرین کو دلاسہ دے کرچلے گئے اور کوئی انکوائری شروع نہیں کی پولیس کے اس عمل کے خلاف برادری کے افراد اور صحافی برادری کی جانب سے پولیس کو تین روز میں چوروں کی گرفتاری اور چوری شدہ سامان کی ریکوری کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری صورت میں پرامن احتجاجی کیمپ لگا کر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔