جب کوئی عمارت جل کر راکھ ہو جاتی ہے تو آگ تو بجھ جاتی ہے مگر بہت سے سوال باقی رہ جاتے ہیں۔ کراچی کے ایم سی گراؤنڈ کا انتخاب ایسے ہی ہوا ہے جیسے مرنے والے کے لیے دفنانے کے مقام کا کیا جاتا ہے، اس گراونڈ میں گل پلازہ کا ملبہ منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے

یہ گراؤنڈ اب سانحہ گل پلازہ کا ایک اور منظر بن چکا ہے۔ گل پلازہ سے نکالا جانے والا ملبہ ٹرکوں کے ذریعے یہاں لایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ عمل کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نگرانی میں ہو رہا ہے تاہم متاثرہ خاندانوں کے لیے ہر آنے والا ٹرک اس خدشے کو بڑھا دیتا ہے کہ کہیں انسانی باقیات یا اہم شواہد ضائع نہ ہو جائیں۔

ترجمان ایس ایس پی ساؤتھ سعد مرزاکے مطابق 25 پولیس اہلکار اس گراؤنڈ میں تعینات ہیں اور اب تک کوئی ڈمپر چوری نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ انتظامیہ گل پلازہ سے  ٹرک نکلنے اور کے ایم سی گراؤنڈ تک پہنچنے کا ریکارڈ مرتب کر رہی ہے۔

گراؤنڈ میں موجود گل پلازہ منتظمین کے مطابق اب تک 150 کے قریب ڈمپر یہاں خالی کرائے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھیے: گل پلازہ کے واقعے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا سمجھ سے باہر ہے، ہر دکاندار کو 5، 5 لاکھ روپے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

گل پلازہ میں لگنے والی آگ چند ہی لمحوں میں جان لیوا ثابت ہوئی۔ دھواں تیزی سے سیڑھیوں اور راہداریوں میں پھیل گیا جہاں دکاندار اور ملازمین دکانیں بند کرنے کے لیے رکے ہوئے تھے۔

ریسکیو حکام کے مطابق زیادہ تر لاشیں بالائی منزل اور میزینائن فلور سے ملی ہیں جہاں لوگ یہ سمجھ کر جمع ہو گئے تھے کہ وہاں محفوظ رہیں گے۔

آگ پر قابو پانے کے بعد اصل امتحان شروع ہوا۔ فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکاروں نے غیر مستحکم ملبے میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر لاشوں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت شدید متاثر ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے اس لیے ملبہ ہٹانے کا عمل انتہائی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

کے ایم سی گراؤنڈ پر موجود ٹوٹا ہوا کنکریٹ، جلا ہوا سامان اور مڑی ہوئی لوہے کی سلاخیں سانحہ گل پلازہ کو پیش آنے والے حادثے کی خاموش گواہی دے رہی ہیں۔

شناختی ٹیمیں ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کی مدد لے رہی ہیں۔

دوسری جانب تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ اتنی تیزی سے کیوں پھیلی اور آیا فائر سیفٹی قوانین کو نظرانداز کیا گیا۔

عمارت کے ڈیزائن، ایمرجنسی راستوں اور بروقت ریسپانس پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ آتشزدگی: کیا یہ شارٹ سرکٹ نہیں بلکہ بچوں کی کارستانی ہے؟

کراچی کے لیے گل پلازہ اب ایک انتباہ بن چکا ہے۔ جب تک ہر لاپتا فرد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ہر سوال کا جواب سامنے نہیں آجاتا یہ سانحہ شہر کے ضمیر پر بوجھ بنا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سانحہ گل پلازہ کے ایم سی گراؤنڈ گل پلازہ گل پلازہ کی ڈمپنگ مرنے والوں کی باقیات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ کے ایم سی گراؤنڈ گل پلازہ گل پلازہ کی ڈمپنگ مرنے والوں کی باقیات کے ایم سی گراؤنڈ سانحہ گل پلازہ کے مطابق کے لیے رہا ہے کیا جا

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری