لاہور میں بسنت کی اجازت کے بعد پتنگ اور ڈور کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور میں بسنت کی اجازت کے بعد پتنگ اور ڈور کی تیاری کا عمل ایک بار پھر روایتی انداز میں جاری ہے۔
کاریگر صبح سے شام تک پتنگیں اور ڈور تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ کاریگروں کا کہنا ہے کہ تیاری کے تمام مراحل میں حکومتی ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں۔
2007 کے بعد حکومت پنجاب کی جانب سے بسنت منانے کا اعلان کیا ہوا، اس کاروبار سے وابستہ رہنے والے اور پتنگ بازی کے شوقین افراد میں تو جیسے جان ہی پڑگئی۔
شہر کے مختلف علاقوں میں حکومتی لائسنس ہولڈر پتنگ اور ڈور تیار کر رہے ہیں۔
پتنگ ساز محمد شاہد کا کہنا ہے بسنت کی اجازت سے کاریگر بہت خوش ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو اُن کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں، بسنت 500 سال پرانا تہوار ہے۔
ڈور ساز محمد آصف کا کہنا ہے ڈور کی تیاری میں منظور شدہ نمبرز کے دھاگے لگا رہے ہیں۔ ڈور کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے رجحان کے مطابق کیا جائے گا۔
بسنت کی خوشیوں کو دوبالا اور ماضی کی یادوں تازہ کرنے کے لیے پتنگ باز وقت سے پہلے پتنگ اور ڈور کی بکنگ کروانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔
کاریگروں کا کہنا ہے خام مال کی محدود دستیابی کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہےـ
لاہور میں بسنت کی مشروط اجازت کے بعد پتنگوں اور ڈور کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔ پتنگ سازوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ضابطوں کے تحت صرف محفوظ اور منظور شدہ مواد استعمال کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پتنگ اور ڈور ڈور کی تیاری کا کہنا ہے اور ڈور کی بسنت کی کے بعد
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔