حکومت کی ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ میں شمولیت قابلِ مذمت ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘ یہ فیصلہ ناصرف اصولی اور پالیسی سطح پر بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی ناقابلِ دفاع ہے۔ بورڈ آف پیس ابتدا ہی سے شکوک و شبہات کا شکار رہا ہے، جنگ کے بعد غزہ کیلیے ایک بیرونی طور پر مسلط کردہ انتظامی ڈھانچے کا تصور دراصل فلسطینی عوام سے ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت چھیننے کی سازش ہے۔ جس شخص کا سیاسی کیریئر جنگی دھمکیوں، عالمی جرائم و تنازعات کو ہوا دینے اور مظلوم اقوام کے خلاف جارحانہ پالیسیاں ہو اسے امن کے نام پر کسی عالمی فورم کا حصہ بنانا عالمی ضمیر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنمائوں نے بعد نماز جمعہ خوجا جامع مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کیا۔ احتجاج میں علامہ رفاقت علی نجفی، ناصر الحسینی، نوشاد علی، تحریک بیداری امت کے رہنما یاور عباس سمیت مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرین نے امریکا و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس سے فوری علیحدگی کا اعلان کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے نام
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔