بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کراچی کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا اس نام نہاد بورڈ آف پیس میں شامل ہونا قومی خودمختاری، عوامی جذبات اور اصولی خارجہ پالیسی کے خلاف ایک افسوسناک اقدام ہے، ایسی حکومت جو عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے قومی مفادات کو قربان کرے، وہ عوام کے اعتماد کی حقدار نہیں رہتی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے بعد کراچی میں نماز جمعہ خوجا جامع مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاج میں علامہ رفاقت علی نجفی، ناصر الحسینی، نوشاد علی، تحریک بیداری امت کے رہنما یاور عباس سمیت مظاہریں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرین نے امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ملکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس سے فوری علیحدگی کا اعلان کرے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا اس نام نہاد بورڈ آف پیس میں شامل ہونا قومی خودمختاری، عوامی جذبات اور اصولی خارجہ پالیسی کے خلاف ایک افسوسناک اقدام ہے، ایسی حکومت جو عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے قومی مفادات کو قربان کرے، وہ عوام کے اعتماد کی حقدار نہیں رہتی۔ .
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک