بلوچستان کے بالائی اور شمالی علاقوں میں خون جما دینے والی سردی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اگرچہ برفباری کا سلسلہ رک چکا ہے، تاہم سائبرین ہواؤں کے باعث درجہ حرارت میں شدید کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی، آمدورفت اور روزمرہ ضروریات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شدید برفباری نے ملک کے بالائی علاقوں کو مفلوج کر دیا، فوجی ریسکیو آپریشن، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے الرٹس جاری

میڈیا رپورٹ کے مطابق کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت سمیت مختلف علاقوں میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا ہے، جبکہ تالابوں اور سڑکوں پر بھی پانی منجمد ہو چکا ہے۔ پینے کے پانی کی قلت کے باعث شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کوئٹہ زیارت شاہراہ کئی مقامات پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔

سخت موسمی صورتحال کے پیش نظر آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے سیاحوں کے زیارت جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ این 50 ژوب ہائی وے بھی مختلف مقامات پر بند کر دی گئی ہے۔ چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، پشین، توبہ اچکزئی اور دیگر علاقوں میں سردی کی شدت کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ بالائی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گرنے کی اطلاعات ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے نمک پاشی اور جدید مشینری کے ذریعے برف ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق بالائی علاقوں میں پھسلن سے بچاؤ کے لیے شاہراہوں پر نمک پاشی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے تاکہ آمدورفت بحال کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان سائبریریئن ہوائیں شدید سردی نل جم گئے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان سائبریریئن ہوائیں علاقوں میں کے لیے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا