شدید برفباری، چترال: گھر پر تودہ آنے سے 9 افراد جاں بحق، کے پی کے، کشمیر، گلگت رابطہ سڑکیں بند
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
مری؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ سٹاف رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ خبر نگار) مری میں شدید برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں۔ مواصلاتی اور ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہوا۔ ڈیڑھ سے 2 فٹ تک برف ریکارڈ کی گئی۔ متعدد رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک گئیں اور سیاحوں کا داخلہ تاحال بند ہے۔ جھیکا گلی کی ایم آئی ٹی روڈ برفباری کے بعد بند پڑی ہے اور کچھ گاڑیاں پھنس گئیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد سے مری میں مزید گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ مری میں برفباری کا سلسلہ 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ برفباری میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب صورتحال کی خود نگرانی کر رہی ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے مری برفباری کے حوالے سے کہا مری کے داخلی راستے بند ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف نے چترال میں برفانی تودہ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں برفانی طوفان جاری ہے۔ درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئیں۔ این 50 شاہراہ پر برف اور شدید پھسلن کے باعث 27 افراد زخمی ہوئے۔ شیلا باغ کے قریب متعدد گاڑیاں ٹکرا گئیں۔ حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔ کوئٹہ میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پی کے کے اضلاع مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں۔ شانگلہ میں برفباری کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا جبکہ چترال میں متعدد سڑکیں بند ہو گئیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک برفباری ہو چکی ہے۔ زمینی رابطے منقطع ہو گئے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ ڈومیل چترال میں مکان پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ جاں بحق افراد میں 4 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کی نعشیں نکال لی گئیں۔ این ڈی ایم اے نے پہاڑی اور بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے خطرے کا الرٹ جاری کر دیا۔ این ای او سی نے ملک کے مختلف مقامات کے لئے 23 تا 29 جنوری تک موسمی کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی۔ فیروز والا سے نامہ نگار کے مطابق بارش کے دوران 2 موٹرسائیکلیں ٹکرانے سے 3 افراد زخمی ہو گئے۔
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے شہریوں سے اپیل کی کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر مری کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مری میں اس وقت سیاحوں کی بہت بڑی تعداد پہلے ہی موجود ہے جبکہ تمام ہوٹل مکمل طور پر فل ہو چکے ہیں۔ عظمٰی بخاری نے بتایا کہ مری میں شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور شہر میں گنجائش سے کہیں زیادہ گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں، جس کے باعث ٹریفک اور شہری سہولیات پر دباؤ بڑھ گیا۔ مری میں مزید گاڑیوں کے داخلے کی بالکل گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور موجودہ صورتحال معمول پر آنے تک مری کا رخ نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: برفباری کے زخمی ہو کے باعث ہو گئے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔