اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر ایران پاکستان کا شکرگزار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت پاکستان حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کیخلاف ووٹ دے کر انصاف، بین الاقوامی قانون اور اصولی سفارت کاری کو تقویت دی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں برادر ممالک خطے اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کو مزید فروغ دیتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی دباؤ یا یکطرفہ فیصلوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ بات چیت، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ووٹ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے اس موقع پر بات چیت اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا۔ اس موقع پر پاکستانی سفارتی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان انسانی حقوق کے فروغ پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ اور سیاسی بنیادوں پر لائی جانے والی قراردادوں کی حمایت نہیں کرتا۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق سے متعلق امور میں تعمیری مکالمہ اور تعاون ہی مؤثر راستہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔