خیبر پختونخوا میں خطرناک عمارتوں کے معائنے اور فائر سیفٹی قوانین کے سخت نفاذ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
خیبر پختونخوا میں خطرناک عمارتوں کے معائنے اور فائر سیفٹی قوانین کے سخت نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔
اس حوالے سے لینڈیوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے چیف پلاننگ کنٹرول افسران اور متعلقہ حکام کو خط لکھ دیا۔
لینڈیوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خط میں لکھا ہے کہ کراچی گل پلازا واقعے میں انسانی جانوں اور املاک کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا، کراچی واقعے سے بلڈنگ سیفٹی قوانین کے سخت نفاذ کی ناگزیر ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔
کراچیسانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 71ہو.
خط میں کہا گیا ہے کہ چیف پلاننگ کنٹرول افسران خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا معائنہ کریں، ایسی عمارتوں کو انسانی رہائش کے لیے ناموزوں قرار دیں جس کی حالت درست نہ ہو۔
لینڈیوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے خط کے مطابق ہنگامی حالات میں عمارتوں سے محفوظ انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے راستے لازمی ہیں، کمرشل اور بالخصوص بلند عمارتوں پر خصوصی توجہ دی جائے، عمارتوں میں مؤثر اور مناسب فائر سیفٹی نظام یقینی بنایا جائے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمارتوں میں الارم سسٹمز، آگ بجھانے کا سامان، ہنگامی انخلاء کے لیے سیڑھیاں، راہداریاں اور دیگر انتظامات ہونے چاہیے، ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز اور سول ڈیفنس کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رکھا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔