Jasarat News:
2026-06-02@22:24:55 GMT

گل پلازہ شعلوں کی نذر

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایم اے جناح روڈ پر واقع کراچی کے اہم تجارتی مرکز گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آگ لگی اور ایک ہی دوکان سے 30 لاشیں برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔ گل پلازہ میں 1200 سے زائد دوکانیں تھی۔ گل پلازا کے گرائونڈ فلور پر مصنوعی پھولوں کی دوکان پر لگنے والی آگ جو کہ دیکھتے دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی اور آگ نے شدت اختیار کرلی۔ ہولناک آگ نے جہاں کئی گھر اجاڑ دیے وہاں ناظم آباد فائر اسٹیشن کا نوجوان اہلکار فرقان بھی ریسکو آپریشن کے دوران ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگیا۔ گل پلازہ میں ہنگامی اخرا ج کے راستوں کی بندش کی وجہ سے ریسکیو کے کام میں دشواری پیش آئی۔ میئر کراچی شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے 23 گھنٹوں کے بعد جائے واقعہ پر پہنچے جس پر متاثرین جو کہ شدید غصے میں تھے انہوں نے میئر کراچی کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان کے سامنے سخت احتجاج کیا۔ سیکورٹی اہلکار بڑی مشکل سے میئر کراچی کو وہاں سے نکال کر لے گئے اور قریبی ڈی سی آفس میں جا کر پریس بریفنگ کی۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا اور سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔

گنجان آبادی شہری علاقوں میں آگ پر برقوت قابو پانے کے لیے مربوط نظام انتہائی ضروری ہے۔ اس مارکیٹ سے ڈیڑھ دو لاکھ خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔ اس سانحہ کی جوڈیشنل انکوائری ہونی چاہیے اور گل پلازہ میں آتشزدگی کے ذمے داران کا تعین بھی کیا جانا چاہیے۔ گل پلازہ جیسے گنجان آباد کاروباری مقامات پر حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا اور سندھ حکومت کی اس موقع پر کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے اور اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی جیسے گنجان آباد معاشی حب میں آتشزدگی اور سیفٹی حامیوں کا تدراک کا فوری اعلان ناگریز ہے۔ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کے لیے سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔ اس وقت شہر کی تمام اہم شاہراوں کی 266 میں سے صرف چھے عمارتوں میں فائر سیفٹی سہولت موجود ہے۔

آئی آئی چند ریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کے مطابق یکم جنوری 2024 کی آڈٹ رپورٹ پر 2026 پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا گیا۔ آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 200 عماروتوں میں آگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں۔ بلکہ 62 فی صد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں۔ جبکہ 70 فی صد عمارتوں میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری ہے۔ 206 میں سے 90 عمارتوں میں فائرالارم اور اسموک ڈٹیکٹر موجود ہیں۔ عمارتوں میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے خدشات ہیں۔ شہر قائد کے سیکڑوں بڑے بازار شاپنگ سینٹرز اور بلند وبالا پلازے انسانی زندگیوں کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔

سانحہ گل پلازہ نے کراچی کے کاروباری مراکز میں آگ سے بچائو کے انتظامات کی قلعی کھول دی ہے۔ شہر میں اسٹینڈر فائر سیفٹی کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ کراچی کے بڑے بازاروں میں روزانہ اربوںروپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ مگر سیفٹی بٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان خطرناک اور غیر محفوظ عمارتوں میں ہزاروں ملازمین اور مزدور کام کرتے ہیں جبکہ لاکھوں شہری یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ن کی زندگیاں شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کی صورت میں دائو پر لگ سکتی ہے۔ بیش تر شاپنگ سینٹر میں آگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں اور نہ ہی ہنگامی اخراج کے راستے ہیں۔ اکثر ہنگامی اخراج کے راستوں کو گودام بنا دیا گیا ہے۔

گل پلازہ کا سانحہ ہم سب کے لیے ایک وارننگ ہے اگر حکومت اور تاجر برادری نے سیفٹی قوانین پر عمل نہیں کیا تو خدانخواستہ کراچی جیسے گنجان آباد کے دیگر بازار اور شاپنگ سینٹر بھی اسی طرح تباہی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ سال 8 جولائی کو ایکسپورٹ پروسنگ زون لانڈھی کی ایک فیکٹری میں تیسرے درجے کی آگ لگی تھی۔ 21 اگست 2025 کو الامنہ پلازہ ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکا ہوا اور اس دھماکے میں چھے افردکی ہلاکت ہوئی تھی۔ 9 ستمبر کو نارتھ کراچی کے صنعتی ایریا میں فیکٹری میں آگ لگی تھی اور پھر 4 دسمبر کو ایکسپورٹ پروسنگ زون میں فیکٹری میں آگ لگی تھی۔ کراچی جوکہ پاکستان کا معاشی حب ہے وفاقی حکومت اپنے خزانے کا 70 فی صد ریونیو اس شہر سے ہی جمع کرتی ہے جبکہ سندھ حکومت 97 فی صد ریونیو یہاں سے وصول کرتی ہے لیکن سانحہ گل پلازہ نے ثابت کردیا ہے کہ کراچی لاوارث ہے اور اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے حکمران طبقہ فوٹو سیشن کے سوا کوئی اور کام نہیں کررہا ہے۔ عید سیزن اور شادی سیزن کے لیے اس مارکیٹ میں اربوں روپے کا سامان موجود تھا جو راک کا ڈھیر بن گیا ہے۔ گل پلازہ کے دوکان دار برباد ہوگئے ہیں ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی برباد ہوگئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سانحہ کی انکوائری کروائیں اور فی دوکان دار کی ایک کروڑ روپے کی امداد کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکیں۔ اس سلسلے میں کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کراچی کی تاجر برادری کو بھی آگے آنا ہوگا۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ میں عمارتوں میں کراچی کے ہوگئی ہے کے لیے ا ا گ لگی اور اس

پڑھیں:

کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق

شہر قائد کے علاقے سرجانی ٹاؤن روزی گوٹْھ میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں باپ اور بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا بیٹا زخمی ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والد اور دو بیٹے زخمی ہوئے۔ 

مقتولین کی لاشوں اور زخمی کو چھیپا کے رضا کاروں نے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔

اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی روزی گوٹھ میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت 62 سالہ کامل حسین اور اس کے بیٹے کو 26 سالہ دوہان کے نام شناخت کیا گیا جبکہ زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے 30 سالہ عادل کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ رشتے داروں کے درمیان تنازع پر جھگڑے کے دوران پیش آیا جس کی اطلاع ملتے ہی سرجانی ٹاؤن پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد حاصل کیے اور واقعے کی مزید چھان بین شروع کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق  فائرنگ کرنے والے ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے لیے پولیس چھاپہ مار رہی ہے جسے جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔

ایس ایچ او سرجانی ٹاؤن سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ لڑکی کے رشتے پر ہونے والے تنازعے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے