data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایم اے جناح روڈ پر واقع کراچی کے اہم تجارتی مرکز گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آگ لگی اور ایک ہی دوکان سے 30 لاشیں برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔ گل پلازہ میں 1200 سے زائد دوکانیں تھی۔ گل پلازا کے گرائونڈ فلور پر مصنوعی پھولوں کی دوکان پر لگنے والی آگ جو کہ دیکھتے دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی اور آگ نے شدت اختیار کرلی۔ ہولناک آگ نے جہاں کئی گھر اجاڑ دیے وہاں ناظم آباد فائر اسٹیشن کا نوجوان اہلکار فرقان بھی ریسکو آپریشن کے دوران ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگیا۔ گل پلازہ میں ہنگامی اخرا ج کے راستوں کی بندش کی وجہ سے ریسکیو کے کام میں دشواری پیش آئی۔ میئر کراچی شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے 23 گھنٹوں کے بعد جائے واقعہ پر پہنچے جس پر متاثرین جو کہ شدید غصے میں تھے انہوں نے میئر کراچی کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور ان کے سامنے سخت احتجاج کیا۔ سیکورٹی اہلکار بڑی مشکل سے میئر کراچی کو وہاں سے نکال کر لے گئے اور قریبی ڈی سی آفس میں جا کر پریس بریفنگ کی۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا اور سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔
گنجان آبادی شہری علاقوں میں آگ پر برقوت قابو پانے کے لیے مربوط نظام انتہائی ضروری ہے۔ اس مارکیٹ سے ڈیڑھ دو لاکھ خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔ اس سانحہ کی جوڈیشنل انکوائری ہونی چاہیے اور گل پلازہ میں آتشزدگی کے ذمے داران کا تعین بھی کیا جانا چاہیے۔ گل پلازہ جیسے گنجان آباد کاروباری مقامات پر حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا اور سندھ حکومت کی اس موقع پر کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے اور اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی جیسے گنجان آباد معاشی حب میں آتشزدگی اور سیفٹی حامیوں کا تدراک کا فوری اعلان ناگریز ہے۔ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کے لیے سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔ اس وقت شہر کی تمام اہم شاہراوں کی 266 میں سے صرف چھے عمارتوں میں فائر سیفٹی سہولت موجود ہے۔
آئی آئی چند ریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کے مطابق یکم جنوری 2024 کی آڈٹ رپورٹ پر 2026 پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا گیا۔ آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کی 200 عماروتوں میں آگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں۔ بلکہ 62 فی صد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں۔ جبکہ 70 فی صد عمارتوں میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری ہے۔ 206 میں سے 90 عمارتوں میں فائرالارم اور اسموک ڈٹیکٹر موجود ہیں۔ عمارتوں میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے خدشات ہیں۔ شہر قائد کے سیکڑوں بڑے بازار شاپنگ سینٹرز اور بلند وبالا پلازے انسانی زندگیوں کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ نے کراچی کے کاروباری مراکز میں آگ سے بچائو کے انتظامات کی قلعی کھول دی ہے۔ شہر میں اسٹینڈر فائر سیفٹی کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ کراچی کے بڑے بازاروں میں روزانہ اربوںروپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ مگر سیفٹی بٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان خطرناک اور غیر محفوظ عمارتوں میں ہزاروں ملازمین اور مزدور کام کرتے ہیں جبکہ لاکھوں شہری یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ن کی زندگیاں شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کی صورت میں دائو پر لگ سکتی ہے۔ بیش تر شاپنگ سینٹر میں آگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں اور نہ ہی ہنگامی اخراج کے راستے ہیں۔ اکثر ہنگامی اخراج کے راستوں کو گودام بنا دیا گیا ہے۔
گل پلازہ کا سانحہ ہم سب کے لیے ایک وارننگ ہے اگر حکومت اور تاجر برادری نے سیفٹی قوانین پر عمل نہیں کیا تو خدانخواستہ کراچی جیسے گنجان آباد کے دیگر بازار اور شاپنگ سینٹر بھی اسی طرح تباہی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ گزشتہ سال 8 جولائی کو ایکسپورٹ پروسنگ زون لانڈھی کی ایک فیکٹری میں تیسرے درجے کی آگ لگی تھی۔ 21 اگست 2025 کو الامنہ پلازہ ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکا ہوا اور اس دھماکے میں چھے افردکی ہلاکت ہوئی تھی۔ 9 ستمبر کو نارتھ کراچی کے صنعتی ایریا میں فیکٹری میں آگ لگی تھی اور پھر 4 دسمبر کو ایکسپورٹ پروسنگ زون میں فیکٹری میں آگ لگی تھی۔ کراچی جوکہ پاکستان کا معاشی حب ہے وفاقی حکومت اپنے خزانے کا 70 فی صد ریونیو اس شہر سے ہی جمع کرتی ہے جبکہ سندھ حکومت 97 فی صد ریونیو یہاں سے وصول کرتی ہے لیکن سانحہ گل پلازہ نے ثابت کردیا ہے کہ کراچی لاوارث ہے اور اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے حکمران طبقہ فوٹو سیشن کے سوا کوئی اور کام نہیں کررہا ہے۔ عید سیزن اور شادی سیزن کے لیے اس مارکیٹ میں اربوں روپے کا سامان موجود تھا جو راک کا ڈھیر بن گیا ہے۔ گل پلازہ کے دوکان دار برباد ہوگئے ہیں ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی برباد ہوگئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سانحہ کی انکوائری کروائیں اور فی دوکان دار کی ایک کروڑ روپے کی امداد کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکیں۔ اس سلسلے میں کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کراچی کی تاجر برادری کو بھی آگے آنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ میں عمارتوں میں کراچی کے ہوگئی ہے کے لیے ا ا گ لگی اور اس
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :