آرٹس کونسل کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب، شمعیں روشن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے سانحہ گل پلازہ کے شہدا کی یاد اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔
تقریب میں صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی، معروف فنکار شاہد رسام، ہما میر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، فنکار، ادیب اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
مزید پڑھیں:گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
صدر آرٹس کونسل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے روز ایک افسوسناک سانحہ پیش آیا، جس میں گل پلازہ کے بے گناہ لوگ جان سے گئے۔ شہیدوں کو یاد رکھنا آرٹس کونسل کی روایت ہے، آج ہم ان کی یاد میں شمعیں روشن کر رہے ہیں اور لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و آرکائیو سید ذوالفقار علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت دردناک واقعہ ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں، ہم شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔
مزید پڑھیں:اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
تقریب میں شریک افراد نے شہدا کے لیے دعائیں کیں اور اہلِخانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرٹس کونسل آف پاکستان سانحہ گل پلازہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرٹس کونسل آف پاکستان سانحہ گل پلازہ سانحہ گل پلازہ آرٹس کونسل کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔