جنیوا میں اصولی مؤقف اختیار کرنے پر ایرانی سفیر پاکستان کے شکر گزار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
تہران (ویب ڈیسک) ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے جنیوا میں ایران کے حق میں اصولی مؤقف اختیار کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایک بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کا اصولی کردار قابل تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے خلاف غیر منصفانہ قرارداد پر ووٹنگ کا مطالبہ کر کے جرات مندانہ اقدام کیا، ایران کے خلاف سیاسی اور بلا جواز اقدامات کو تیسری مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ 12 روزہ جارحیت، بیرونی حمایت یافتہ ہنگامے اور عالمی اداروں کے غلط استعمال کی کوششیں ناکام ہوئیں، پاکستان کی حمایت انصاف، انسانی حقوق، کثیرالجہتی نظام اور قومی خودمختاری سے وابستگی کی عکاس ہے۔
سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران پاکستان کی اس اصولی اور مستقل حمایت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایرانی سفیر
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔