راولپنڈی میں 14 سالہ بچی اغوا کے بعد بے دردی سے قتل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی میں 14 سالہ بچی کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
راولپنڈی ڈھوک حسو سے دو روز قبل لاپتہ ہونے والی چودہ سالہ بچی کی بوری بند لاش لیڈیز پارک کیرج فیکٹری روڈ سے برآمد ہوئی۔
چودہ سالہ مصباح 22 جنوری کو گھر سے دوکان پر بوتل لینے گئی لیکن واپس گھر نہیں آئی اور لاپتہ ہو گئی تھی، بچی کے اغواء کا مقدمہ 23 جنوری کو تھانہ رتہ امرال میں اسکے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
مدعی مقدمہ نے بچی کی لاش کو شناخت کرلیا، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا یا نہیں یہ بات پوسٹ مارٹم میں سامنے آئے گی۔
لاش ملنے کی اطلاع پر ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی انوسٹیگیشن، ایس پی راول پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، موقع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، وقوعہ کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔