فرانچسکا آلبانیز کا UN سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنیکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اپنی ایک تقریر میں فرانچسکا آلبانیز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ہاتھوں بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں پر نام نہاد عالمی برادری کی خاموشی زیر سوال ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی امور کی نمائندہ خصوصی "فرانچسکا آلبانیز" نے مطالبہ کیا کہ اس عالمی پلیٹ فارم سے اسرائیل کی رکنیت معطل کی جائے۔ نیز عالمی سطح پر اس رژیم کا بائیکاٹ بھی کیا جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار غزہ و دیگر علاقوں میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری صیہونی انسانی جرائم کے تناظر میں کیا۔ فرانچسکا آلبانیز نے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں پر نام نہاد عالمی برادری کی خاموشی زیر سوال ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ ادارہ، جارح اسرائیل کو قابو میں رکھنے کے لئے اپنے قانونی ذرائع استعمال کرے۔ انہوں نے اس خطرے سے بھی خبردار کیا کہ موجودہ عالمی نظام خطرے سے دوچار ہے، اس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ جنرل اسمبلی سے اسرائیل کی رکنیت معطل کی جائے اور اس پر ہمہ جہتی پابندیاں عائد کرنے کے لئے عالمی سطح پر فیصلہ کُن اقدام کیا جائے۔ ان پابندیوں میں خاص طور پر اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل کو مدنظر رکھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔