طبی حقوق متاثر کرنے والے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں ‘ نسیم احمد قاسمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان طبی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (پاکستان)کے تحت ایکٹ NTCAM-2025ء کے خلاف ایک مزمتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا اجلاس کی صدارت کنوینر (سندھ) آل پاکستان طبی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (پاکستان) حکیم نسیم احمد قاسمی نے کی اور مجوزہ ایکٹ کے نفاذ سے پیدا ہونے والے مسائل کا اجاگر کیا جبکہ حکیم آغا حضرت جی‘ ممبر نیشنل کونسل فار طب اسلام حکیم مختار احمد برکاتی‘ حکیم نعمان انصاری‘ حکیم محمد معظم شیخ‘طبیبہ صائمہ نسیم‘ طبیبہ سائرہ رحمان‘ حکیم سعید احمد قاسمی‘ حکیم محمد ابرار دہلوی‘ ارشاد دہلوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر NTCAM-2025 ء کے تحت نافذ کیے جانے والے اقدامات کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پالیسیوں کے باعث عوام، مریضوں، والدین، طلبہ و طالبات اور طبی شعبے سے وابستہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں، جو عوامی مفاد اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔قرارداد میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عوامی اعتماد کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم شفافیت کے فقدان اور عوامی مشاورت کے بغیر فیصلے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ شرکاکا کہنا تھا کہ طبی اور تعلیمی شعبوں میں غیر ضروری پابندیاں مریضوں کے علاج اور طلبہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام فیصلے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اصولوں، Malta Conference 2009 اور دیگر بین الاقوامی معیارات کے مطابق کیے جائیں، جبکہ اختیارات (Powers) کا استعمال آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوام کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ قرارداد کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ NTCAM-2025 کے تحت کیے گئے متنازع اقدامات کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مفاد، مریضوں کے حقوق اور تعلیمی معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔