بنوقابل پروگرام کے تحت 25جنوری کو گوادر میں ٹیسٹ منعقد کیا جائیگا، مولاناہدایت الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-08-19
گوادر ( نمائندہ جسارت) ممبر صوبائی اسمبلی و امیر جماعت اسلامی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، بنو قابل پاکستان کے سینئر منیجر محمد معاویہ، بنو قابل بلوچستان کے ڈائریکٹر طیب فرید خان، ضلع گوادر کے کوآرڈینیٹر نادل صالح ،مولانا لیاقت بلوچ، واجہ عبدالمجید و دیگر نے سینیٹر محمد اسحاق کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بنو قابل پروگرام کے تحت 25 جنوری کو گوادر میں ٹیسٹ منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنو قابل ملک کے دیگر علاقوں کے بعد بلوچستان میں متعارف کرایا گیا ہے اور اب تک کوئٹہ اور نصیر آباد کے بعد گوادر میں بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں لیکن مواقع اور سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں یا غلط ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں نوجوانوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ ہے جبکہ حکومت نے صرف 6ہزار نوکریوں کا اعلان کیا ہے جو ناکافی ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اسی تناظر میں نوجوانوں کو باصلاحیت بنانے، خوشحال اور خود روزگار کے قابل بنانے کے لیے بنو قابل پروگرام لانچ کیا گیا ہے۔ یہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہر نوجوان اس میں حصہ لے سکتا ہے، بس بنیادی معلومات ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے رجسٹریشن کی ہے یا نہیں کی وہ سب ٹیسٹ دینے کے لیے آجائیں، ان کا ٹیسٹ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 10 ہزار نوجوانوں کے لیے انتظامات مکمل کیے گئے ہیں، جن میں مرد و خواتین دونوں شرکت کریں گے۔ یہ پروگرام امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ چار ماہ کی ٹریننگ کے بعد نوجوانوں کی ہر قدم پر سرپرستی کی جائے گی اور انہیں مختلف کمپنیوں سے روزگار کے مواقع دلوانے کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن خود بھی اس ٹیسٹ میں شریک ہوں گے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ہم قابل اور باصلاحیت بنیں گے تو ہی کامیاب ہوں گے۔ اس کے بعد دارالعوام پبلک اسکول میں ایک جدید کمپیوٹر لیب قائم کی جائے گی، جبکہ حکومت سے زمین حاصل کرکے ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ آئی ٹی پلازہ بھی بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔