وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی نجی تعلیمی ادارہ والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے درسی کتب، یونیفارم یا دیگر تعلیمی اشیا خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر تعلیم کے مطابق اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن) آرڈیننس 1984 کے سیکشن 7A(10) کے تحت کسی بھی نجی اسکول کو والدین یا سرپرستوں پر مخصوص آؤٹ لیٹس سے کتب، یونیفارم یا اسکول سے متعلق دیگر اشیا خریدنے کا پابند بنانے کی اجازت نہیں۔

اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اگر کوئی نجی تعلیمی ادارہ والدین پر دباؤ ڈالے یا انہیں مخصوص دکانوں سے سامان خریدنے پر مجبور کرے تو اسے قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایسے اسکولوں کے خلاف جرمانے سمیت دیگر تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

نجی تعلیمی ادارے والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے کتب، یونیفارم یا دیگر اشیاء خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے، خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ والدین غیرقانونی عمل کی شکایت CRM پورٹل کے ذریعے درج کرائیں تاکہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔… pic.

twitter.com/vSdZwDhy7F

— Rana Sikandar Hayat (@RanaSikandarH) January 23, 2026

محکمہ تعلیم نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی عمل کی فوری شکایت متعلقہ ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی (ڈی آر اے) کو دیں، جو چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے دفتر میں قائم ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت کے سٹیزن ریلیشن شپ مینجمنٹ (CRM) پورٹل پر بھی آن لائن شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔

محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ والدین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رانا سکندر حیات نجی تعلیمی ادارہ وزیر تعلیم پنجاب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رانا سکندر حیات نجی تعلیمی ادارہ وزیر تعلیم پنجاب نجی تعلیمی وزیر تعلیم خلاف ورزی

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی