اسکول اور کالج کی چھٹیاں کم کرنیکا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسکول اور کالج کے طلبہ و طالبات کیلئے اہم خبر سامنے آگئی۔ حکومت نے تعلیمی اداروں کی چھٹیاں کم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کی ہدایات پر قائم کی گئی کمیٹی نے پنجاب بھر کے اسکولز اور کالجز کیلئے ہر سال 190 روز تعلیم مکمل کرنے کا یکساں تعلمی کیلنڈر تشکیل دینے کی سفارش کردی۔ بچوں کو چھٹیاں انجوائے کرنے کی بجائے 190 روز تک تعلیم حاصل کرنا پڑے گی۔اپنی سفارتشات کے ایک حصے کے طور پر کمیٹی نے موسم گرما کی تعطیلات کو 2 ماہ 15روز سے کم کرکے 6ہفتوں تک محدود کرنے کی تجویز پیش کی۔ گزشتہ 4 ماہ میں کیے گئے اپنے تیسرے اجلاس میں کمیٹی نے اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے دی۔ صوبے کے تعلیمی اداروں کو منصوبے کے تحت سالانہ 175تعطیلات ملیں گی۔تجویز کردہ منصوبے کے تحت تعلیمی اور نصابی دنوں کی تعداد 190 ہوگی جبکہ پنجاب بھر کی نجی اسکول ایسوسی ایشنز نے اس تجویز کی تائید کی ہے۔صوبائی اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے اسپیشل سیکریٹری محمد اقبال نے حکام کو ہدایت دی کہ 3روز میں یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کریں۔کمیٹی کا ماننا ہے کہ ہر سال تعطیلات کی بڑھتی ہوئی تعداد سے طلبہ و طالبات کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ خصوصاً سینئر کلاسز میں نصاب کی تعلیم مکمل نہیں ہوپاتی۔ چھٹیاں محدود کرنے سے تعلیمی عمل کی تکمیل میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔