وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں اخلاقیات اور کریکٹر ایجوکیشن کے نئے نصاب کا باضابطہ اجراء کر دیا ہے۔ اس نصاب کے ذریعے بچوں کو اسلامی، پختون اور علاقائی روایات کے ساتھ ساتھ شہری ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ انٹرنیٹ اور جدید دور میں اپنی اقدار، کلچر اور روایات کا تحفظ ناگزیر ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ آنے والی نسلیں اپنی شناخت اور اقدار بھول جائیں۔ یکم مارچ سے ضلع لوئر چترال کے پرائمری سکولوں میں نئے کریکولم کا آغاز ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: تولیدی صحت کی تعلیم نصاب میں شامل کی جائے گی، پاکستان سینیٹ نے بل پاس کرلیا

کریکٹر ایجوکیشن نصاب میں اسوہ حسنہ، مقامی ثقافت، معاشرتی، نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آئندہ مرحلے میں اس نصاب کو صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی توسیع دی جائے گی اور یہ سرکاری، نجی سکولوں اور مدارس میں بھی پڑھایا جائے گا۔ نصاب پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کے لیے ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکولوں میں اخلاقیات کا سلیبس متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت اور سنت میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اخلاقیات کے بعد جلد سکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) بھی پڑھائی جائے گی تاکہ اسلامی اقدار کے ساتھ جدید سائنسی علوم کو بھی فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت نے ’اے آئی‘ کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات شروع کردیے

وزیراعلیٰ نے علامہ اقبالؒ کے پیغام خودی کو آج بھی رہنمائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی قومی خودداری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ کریکٹر ایجوکیشن نصاب میں خودی کا موضوع بھی شامل کیا جائے گا تاکہ قوم کو تعلیم اور کردار سازی کے ذریعے خوددار بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے نکل چکی ہے، لیکن ہمارا بچہ آج بھی امن کا متلاشی ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو مذہبی، سائنسی اور اخلاقی تعلیم فراہم کرے۔ خیبر پختونخوا کے بچوں کو بندوق نہیں، بلکہ قلم اور تعلیم دینی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب یکجا کرکے ایم ڈی کیٹ پیپر بنایا ہے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ 25 سالوں میں صوبے نے دہشت گردی اور تشدد کا سامنا کیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں کو علم، تعلیم اور ترقی کا راستہ دکھایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بند کمروں میں بننے والے فیصلے ہمیشہ ملک اور قوم کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اجتماعی دانش اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر بنائی گئی پالیسی زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے معاشی بحران اور جی ڈی پی گروتھ میں کمی کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اس بحران سے نکلنے کے لیے بچوں کو تعلیم اور کردار سازی کی طرف توجہ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی تربیت تعلیم نصاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے آئی تربیت تعلیم کریکٹر ایجوکیشن نے کہا کہ بچوں کو کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن