پاکستانی جین زی کو مریخ پر منتقل کیا جائے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیپلزپارٹی کے راہنما قمر الزمان کائرہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر معاشرے کے فعال اور عقل وخرد کے حامل افراد کو چونکا دیا ہے کہ ووٹر کی عمر اٹھارہ سال سے بڑھا کر پچیس سال کی جانی چاہیے۔ اپنے اس موقف کے حق میں انہوں نے یہ دلیل دی کہ ووٹ تو پارٹی منشور پڑھ کر دیا جاتا ہے جبکہ اٹھارہ سال کے نوجوان میں منشور پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ قمر الزمان کائرہ تو اپنی رائے دے بیٹھے مگر ان کا یہ بیان اب عوام کی امانت بن گیا ہے۔ پاکستان کی جین زی نے اپنے انداز سے اس بیان کے حسن وقبوح کا پوسٹمارٹم شروع کرکے ایسے دلائل دیے کہ واقعی جین زی پاکستانی سسٹم کا دردِ سر ہی دکھائی دینے لگی ہے۔ ان کا ماتھا یوں ٹھنکا کہ شاید آنے والی آئینی ترمیم میں ووٹر کی عمر بڑھانے کی شق بھی شامل کی جانی ہے جس کے لیے قمر الزمان کائرہ نے تجویز اور رائے کا یہ پٹاخہ چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل اب شعور اور جرأت کے اس درجے پر ہے کہ وہ اس پٹاخے کے پھٹنے سے خوفزدہ ہوکر بھاگنے کے بجائے اسے ہاتھ سے اْٹھا کر ہواؤں میں اْچھال رہی ہے۔ اگر مستقبل کی کسی آئینی ترمیم میں یہ شق شامل نہیں بھی تب بھی یہ سوچ کسی نہ کسی کوارٹر اور راہداری میں پائی جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ریاستی نظام اور نسل ِ نو کے درمیان بیانیوں اور بیانیوں کے استرداد کی آنکھ مچولی جاری ہے اس میں جمے جمائے نظام کا جین زی سے تنگ آجانا انہونی بات نہیں۔ پاکستان کے نظام نے یوں بھی نسل نو کے لیے اس ملک میں کوئی کشش رہنے ہی نہیں دی اسی لیے آئے روز ایسے سرویز سامنے آتے ہیں جن میں ہر دوسرا نوجوان اپنے بہتر محفوظ اور خوش حال مستقبل کے لیے بیرونی دنیا کی راہ لینے کا خواہش مند دکھائی دیتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت خلیجی یورپی اور دوسرے مغربی ملکوں کے سفارت خانوں کے سامنے ہر روز ویزے کے خواہش مندوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ان میں نوے فی صد نوجوان اپنی ڈگریاں اْٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو بے چارے ڈگری حاصل نہیں کر سکے وہ ماؤں کے زیور اور بہنوں کے جہیز بیچ کر انسانی اسمگلروں کے ہاتھ پر رکھتے ہیں جو انہیں غیر قانونی طریقوں سے ڈنکیاں لگا کر یورپ میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آئے روز گہرے سمندروں میں کوئی کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتی ہے تو ہر کشتی میں پاکستانی محنت کش نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہوتی ہے جن میں اکثر پانیوں کا ایندھن بنتے ہیں کچھ خوش قسمت ڈنکی لگانے کے نقصانات بتانے کے لیے زندہ بچ کر واپس آتے ہیں۔ اس طرح ایک سال میں لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں جن میں بہترین دماغ شامل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر شرح صدر رکھتے ہیں کہ اس ملک میں ان کے ٹیلنٹ کی قدر ہوگی نہ انہیں محنت کا صلہ ملے گا۔ ممکن ہے یہ خوف کچھ زیادہ ہی ہو مگر جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں حقوق تو کیا جان ومال کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی وہاں کچھ ہوجانے اور پھر اس کے نتیجے میں انصاف نہ ملنے کا خوف ایک عارضہ بن کر رہ جاتا ہے۔
المیہ یہ کہ پاکستان کے اس برین ڈرین کو ’’برین گین‘‘ کہا گیا۔ کوئی پوچھے کہ پاکستان نے اس سے کیا حاصل کیا؟ سوائے کچھ ڈالروں اور پاونڈز اور ریالوں کے جو وہ اپنے گھر والوں کو بھیجتے ہیں۔ اس برین سے اگر کسی نے گین کیا تو پاکستان نہیں بلکہ وہ ملک ہیں جہاں ان اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جا کر بسیرا کیا۔ جہاں ان کی صلاحیتیں معاشرتی فلاح اور ترقی کے لیے صرف ہونے لگی ہیں۔ بطور پاکستانی وہاں جاکر ان کا غصہ کم نہیں ہوا کیونکہ اب وہ اپنے ملک کے حالات کا ان ترقی یافتہ اور سماجی انصاف کے حامل ملکوں کے ساتھ کرنے کی بہتر پوزیشن میں آگئے ہیں۔ پاکستان کی جین زی کو فرضی بیانیوں، افسانوں ترانوں سے بہلایا نہیں جا سکتا کیونکہ ان کے پاس علم تحقیق اور موازنے کے ذرائع ہیں۔ گلوبل ویلج بنی دنیا میں وہ دنیا کے ہر کونے کی خبر رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے حکمران طبقات نسل نو کو سبق پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اس سبق کو اپنے عملی حالات اپنے گردو پیش کی صورت حال کے محدب عدسے میں دیکھتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں سسٹم اور نسل نو کے درمیان یہی لڑائی چل رہی ہے۔ نسل نو کے ذہنوں کو بدلنے کے لیے درجنوں ٹی وی چینل وقف ہیں جو کسر رہ گئی تھی وہ نت نئے چینلوں کے قیام کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
نئی نسل کے چھوٹے چھوٹے ہیروز ہوا کرتے تھے کوئی کھیل کے میدان کا ہیرو تھا کوئی تحقیق اور دینی علم کا ہیرو تھا کوئی زندگی گزارنے کے اصولوں کے حوالے سے نوجوان نسل کا پاکستانی ڈیل کارنیگی تھا تو کوئی اطلاع ابلاغ اور تجزیے کے حوالے سے نسل نو کا پسندیدہ تھا۔ نوجوان نسل کو بیانیہ فروخت کرنے میں ناکامی کے بعد سسٹم نے ان ہیروز کو بے رحمی سے استعمال کیا۔ یہ نسل نو کے جذبات کی تند ہواؤں کے مقابل چراغ رکھنے کی کوشش تھی اور اس کا انجام یہ ہوا کہ شاہد آفریدی سے جواد احمد اور محمد علی مرزا تک اور قاسم علی شاہ سے اقرار الحسن اور جاوید چودھری تک کسی دور میں نوجوانوں پر گہرا اثر رسوخ رکھنے والے کردار بے اثر ہوتے چلے گئے۔ یوں پاکستانی معاشرہ ان چھوٹے چھوٹے ہیروز کے ٹوٹے ہوئے مجسموں کا ایک کباڑ خانہ سا بن گیا۔ اب پاکستان کے سسٹم میں ہر سال لاکھوں نوجوان داخل ہورہے ہیں۔ یہ نوجوان عملی طور پر حالات اور مراعات سے الگ تھلگ ہیں اب انہیں حق ِ رائے دہی سے بھی محروم کر دینا آبادی کے بڑے حصے کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ اٹھارہ سال کا جو نوجوان دفاع وطن کے لیے منتخب ہونے، بیوروکریٹ بن کر وطن کی تعمیر کرنے سمیت ہر ذمے داری کا اہل ہوتا ہے وہ ووٹ دینے کا حقدار نہیں کیا نرالی منطق ہے؟ جین زی کے سوالوں سے جان چھڑانے کا کوئی بھی انداز ابھی تک کارگر نہیں رہا۔ اس کا واحد راستہ اب یہی بچا ہے کہ اس بڑی آبادی کو مریخ پر منتقل کر دیا جائے جہاں نہ ان سے آنکھیں ملانے کا موقع آئے نہ ان کے سوال کانوں میں پڑیں گے۔ آخر کبوتر بھی تو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اس میں بھی کوئی حکمت اور مصلحت ہوتی ہوگی؟۔ خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ ہر حیلہ آزمانے کے باوجود اگر دوسروں کو بدلنے کی کوشش میں ناکامی ہو رہی ہے تو تھوڑا سا خود بدل جانے کا تجربہ کرکے بھی دیکھ لینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نسل نو کے کی کوشش کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔