مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: برطانوی رائل ایئر فورس کے طیارے خلیج پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ نے قطر میں اپنے لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں، جسے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے رائل ایئر فورس کے جائنٹ ٹائفون اسکواڈرن کے لڑاکا طیارے خلیج کے علاقے میں روانہ کر دیے ہیں تاکہ دفاعی ذمہ داریاں انجام دی جا سکیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق 12 اسکواڈرن، جو برطانیہ اور قطر کی مشترکہ یونٹ ہے، کو خطے میں تعینات کیا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تعیناتی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد خطے میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے قریب بڑی فورس تعینات کر دی ہے، جس میں بحری جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فی الحال ایران پر مزید کوئی حملہ کرنے کا ارادہ نہیں، تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام نہ روکا تو امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔ ان بیانات کے بعد خطے میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق برطانیہ کی جانب سے قطر میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خلیجی خطے میں سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔