سڈنی ہاربر میں شارک کے حملے میں زخمی ہونے والا 12 سالہ لڑکا دم توڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں شارک کے حملے میں شدید زخمی ہونے والا 12 سالہ لڑکا اسپتال میں انتقال کر گیا، جس کے بعد مشرقی ساحل پر حالیہ شارک حملوں کے باعث حفاظتی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ورجن آئی لینڈز میں شارک کا حملہ، خاتون ہلاک
رائٹرز کے مطابق نیکو اینٹک نامی 12 سالہ لڑکا اتوار کے روز واؤکلوز کے علاقے میں دوستوں کے ساتھ چٹانوں سے پانی میں چھلانگ لگا رہا تھا کہ اس دوران شارک نے اس پر حملہ کر دیا۔ یہ مقام سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے سے تقریباً 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
حملے کے بعد نیکو کو اس کے دوستوں نے پانی سے نکالا اور دونوں ٹانگوں پر شدید زخموں کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
نیکو کے اہلِ خانہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ دل شکستہ ہیں اور اپنے بیٹے کی موت کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق نیکو ایک خوش مزاج، دوستانہ اور کھیلوں سے محبت کرنے والا بچہ تھا، جو اپنی مہربان اور فیاض فطرت کی وجہ سے سب کو عزیز تھا۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں 2 دن کے دوران چار شارک حملوں کے بعد سڈنی سمیت درجنوں ساحل بند کر دیے گئے تھے۔ شدید بارشوں کے باعث پانی کی شفافیت کم ہو گئی تھی، جس سے شارک کے ساحل کے قریب آنے کے امکانات بڑھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ورجن آئی لینڈز میں شارک کا حملہ، خاتون ہلاک
یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی سڈنی کے لانگ ریف ساحل پر ایک سرفر شارک کے حملے میں ہلاک ہوا تھا۔ ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق آسٹریلیا میں سالانہ اوسطاً 20 شارک حملے ہوتے ہیں، جن میں سے 3 سے کم جان لیوا ثابت ہوتے ہیں، جبکہ ساحلوں پر ڈوبنے کے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا سڈنی شارک اٹیک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا شارک اٹیک
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔