پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2026 سب نیوز
ملائیشیا میں پاکستانی طلبہ کے لیے عالمی معیار کی تعلیم، ای ایم جی ایس
اسلام آباد: (آئی پی ایس) ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے اسلام آباد میں ایک نیٹ ورکنگ تقریب کا انعقاد کیا، جس کی میزبانی پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر عالی جناب داتو محمد اظہر مزلان نے کی۔ اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلان نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا، جو مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام، عالمی سطح پر تسلیم شدہ جامعات اور مناسب تعلیمی اخراجات کے باعث ملائیشیا پاکستانی طلبہ کے لیے ایک پسندیدہ تعلیمی منزل بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اس وقت ملائیشیا کی معروف سرکاری و نجی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی روابط کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر موئن احمد، ریجنل ہیڈ جنوبی ایشیا، ایجوکیشن ملائیشیا گلوبل سروسز نے بھی خطاب کیا اور پاکستان کے تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ملائیشیا کے تعلیمی نظام کی مضبوط علمی بنیادوں، صنعت سے ہم آہنگ نصاب اور طلبہ دوست ماحول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ ملائیشیا کی عالمی معیار کی جامعات میں دستیاب تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
یہ تقریب ملائیشیا کی اعلیٰ تعلیمی جامعات اور پاکستان کے تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط، تعاون اور تبادلۂ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ اس موقع پر ملائیشیا کی معروف جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں یونیورسٹی آف ملایا، یونیورسٹی اترا ملائیشیا (UUM)، یونیورسٹی کوالالمپور (UniKL)، ایشیا پیسیفک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن (APU)، یو سی ایس آئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سائبرجایا (UOC) شامل ہیں۔
تقریب کے اختتام پر ای ایم جی ایس نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستانی طلبہ کے لیے ملائیشیا کو ایک ممتاز عالمی تعلیمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور صومالیہ کا سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے پر اتفاق پاکستان اور صومالیہ کا سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے پر اتفاق ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ازبکستان–پاکستان اسٹریٹجک شراکت: علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون میں نیا باب فرانس ویزا فراڈ: ایف بی آر کے اعلیٰ افسر کے خلاف مقدمہ درج، تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ عمران خان تعاون نہیں کررہے، این سی سی آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور ملائیشیا کے کے تعلیم
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔