محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورکس پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اویس کیانی : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں پاک امریکہ تعلقات اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور پری امیگریشن کلیرنس نظام کی افادیت پر بات کی گئی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً پولیس ٹریننگ کے شعبے میں ہر سطح پر اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، اس موقع پر جعلی و فراڈ ویزا نیٹ ورکس کے خلاف جامع ایس او پیز کے تحت مشترکہ کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفیر سے گفتگو میں کہا کہ ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور امریکی تعاون کا خیرمقدم کریں گے، جعلی ویزا نیٹ ورکس کیخلاف کارروائی کی خود نگرانی کر رہا ہوں اور پاسپورٹ کو جدید ٹیکنالوجی سے فول پروف بنایا گیا ہے۔
محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ جانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے اور حکومت کے موثر اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے، جعلی دستاویزات کے نیٹ ورکس میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور دونوں ممالک میں باہمی تعاون کے فروغ سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: امریکی سفیر محسن نقوی نیٹ ورکس
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔