امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے معاملے پر توجہ حاصل کرلی، تاہم اس بار کسی باضابطہ بیان کے بجائے ایک وائرل میم کے ذریعے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر شیئر کی گئی، جس میں صدر ٹرمپ کو برف پوش پہاڑوں کی جانب ایک پینگوئن کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تصویر میں پینگوئن کے ہاتھ میں امریکی پرچم جبکہ پس منظر میں گرین لینڈ کا پرچم دکھایا گیا ہے۔ تصویر کے ساتھ کیپشن تھا: ’Embrace the Penguin‘۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے

یہ تصویر انٹرنیٹ پر مشہور ’نیہلسٹ پینگوئن‘ میم کی طرف اشارہ سمجھی جا رہی ہے، جو 2007 میں جرمن ہدایت کار ورنر ہرزوگ کی دستاویزی فلم Encounters at the End of the World سے لی گئی ایک ویڈیو کلپ پر مبنی ہے۔ اس کلپ میں ایک اڈیلی پینگوئن کو اپنی کالونی سے الگ ہو کر انٹارکٹکا کی جانب جاتے دکھایا گیا تھا، جو بعد ازاں تنہائی اور بے سمتی کی علامت کے طور پر میم بن گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ کو ڈنمارک سے خریدنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں، جس پر عالمی سطح پر خاصی تنقید ہوئی تھی۔ حالیہ میم کو بھی کئی مبصرین نے اسی سوچ کی علامتی جھلک قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  گرین لینڈ پر معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا، ٹرمپ کا اعلان

تاہم وائٹ ہاؤس کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے صدر ٹرمپ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ صارفین نے نشاندہی کی کہ پینگوئن قطبِ جنوبی یعنی انٹارکٹکا میں پائے جاتے ہیں، جبکہ گرین لینڈ قطبِ شمالی کے قریب واقع ہے، جہاں پینگوئن موجود ہی نہیں۔

کئی صارفین نے اس غلطی کو ’شرمناک‘ اور ’حقائق سے لاعلمی‘ قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے محض ایک سیاسی مذاق یا توجہ حاصل کرنے کی کوشش کہا۔

واضح رہے کہ اصل دستاویزی فلم میں دکھایا گیا پینگوئن گرین لینڈ کی طرف نہیں بلکہ سمندر اور اپنی کالونی سے دور، انٹارکٹکا کے اندرونی حصے کی جانب جاتا دکھایا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ؎ میم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ دکھایا گیا گرین لینڈ کی جانب

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل