برطانیہ میں دلچسپ واقعہ: طیارہ مسافروں کو ائیرپورٹ پر چھوڑ کر پرواز کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ میں فضائی سفر کے نظام سے متعلق ایک دلچسپ اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک معروف ایئرلائن کی پرواز درجنوں مسافروں کو ائیرپورٹ پر چھوڑ کر روانہ ہو گئی۔
اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ مسافروں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا بلکہ ایئرلائنز کے انتظامی نظام پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جیٹ 2 کمپنی کی پرواز ایل ایس 879 مانچسٹر ائیرپورٹ سے اسپین کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر ائیرپورٹ پہنچے، چیک اِن مکمل کیا اور بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے بعد طیارے کی جانب روانہ ہوئے، تاہم ائیرپورٹ کے اندر عملے کی ناقص رہنمائی کے باعث 35 سے زائد مسافر غلط راستے پر چلے گئے، جہاں انہیں طیارے کے بجائے ایک بند گزرگاہ یا ڈیڈ اینڈ کا سامنا کرنا پڑا۔
مسافروں کے مطابق وہ سمجھتے رہے کہ شاید یہ کوئی عارضی انتظار گاہ ہے اور عملے کا کوئی فرد آ کر دروازہ کھولے گا یا انہیں بس کے ذریعے طیارے تک لے جایا جائے گا، لیکن وقت گزرتا رہا اور تقریباً 40 منٹ تک کوئی عملہ ان کی رہنمائی کے لیے موجود نہ تھا۔ اس دوران مسافروں میں بے چینی اور پریشانی بڑھتی گئی جب کہ بعض مسافروں نے اس کیفیت کو قید جیسا تجربہ قرار دیا۔
جب مسافروں کو بالآخر صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا اور وہ واپس روانگی کے مرکزی دروازے کی طرف لوٹے تو انہیں یہ جان کر شدید صدمہ ہوا کہ طیارہ ان کے بغیر ہی پرواز کر چکا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ درجنوں بورڈنگ پاس رکھنے والے افراد کی عدم موجودگی کے باوجود طیارے کو روانگی کی اجازت دے دی گئی اور عملے نے مسافروں کی گنتی تک ضروری نہ سمجھی۔
واقعے کے بعد مسافروں نے ایئرلائن انتظامیہ پر شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ائیرپورٹ اور ایئرلائن عملہ اپنی بنیادی ذمہ داری نبھاتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
بعد ازاں ایئرلائن کی جانب سے وضاحت دی گئی کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں جب کہ متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں کے ذریعے ان کی منزل تک پہنچا دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ فضائی سفر کے انتظامی نظام میں موجود کمزوریوں کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس نے مسافروں کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسافروں کو
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔