غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں، حکومت کا شمولیت کا فیصلہ نہیں مانتے، نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں ہے، لہٰذا ہم اس پیس بورڈ کو نہیں مانتے۔
تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش میں آنے والے انتخابات میں جماعت اسلامی جیتے گی۔ ہم تمام مسالک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ اتحاد کی بات کی ہے، فرقوں میں تقسیم ہونے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ ہمارا مسئلہ نہیں کہ کوئی شخص کا تعلق کس فرقے سے ہے۔ تمام مسالک، تمام آئمہ اور فقہاء قابل عزت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام مسلط ہے، غریب غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ دو ہزار دوسو ارب روپے ہم نے اس بجلی کے ادا کئے جو کھبی بنی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اسرائیل کو ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامزد کرنے سے پاکستان کی بے توقیری کی گئی، غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں ہے،
غزہ پیس بورڈ میں شمولیت سے پہلے اس پر پارلیمنٹ میں گفتگو نہیں ہوئی۔ ہم کسی بھی عالمی طاقت سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، لیکن غلامی بھی نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرف کے ایک فیصلے نے پاک افغان بارڈر کو غیر محفوظ بنادیا، پہلے بھی قوم کے ساتھ مشورہ نہیں کیا گیا اب بھی نہیں کیا جارہا ہے، یہ قوم کے ساتھ مذاق ہے، پیس بورڈ میں جانے کا فیصلہ نہیں مانتے۔ امریکا نے اقوام کو گھر کی لونڈی بنادیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات ہونی چاہیئے، دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہو تو امن و امان خود بخود قائم ہوجائیگا۔ پورے ملک میں گورنسس انتہائی خراب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غزہ پیس بورڈ میں نعیم الرحمان جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔