نوجوانوں کو صرف طالبعلم نہیں مفکر، موجد اور ذمہ دار شہری کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے: صدر کا عالمی یومِ تعلیم پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل براہِ راست اس کی نوجوان نسل سے جڑا ہوا ہے، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، مستحق طلباءکی امداد اور ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی جیسے اقدامات نوجوانوں کو عملی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا ۔ انہوں نے عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر پاکستان کے عوام خاص طور پر طلباء، اساتذہ، والدین، سکالرز اور تعلیم کے فروغ سے منسلک تمام افراد کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس سال کا موضوع ”تعلیم کی تخلیق میں نوجوانوں کی طاقت“ اس بات پر زور دیتا ہے کہ نوجوانوں کو صرف طالب علم نہیں بلکہ مفکر، موجد اور ذمہ دار شہری کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے جن کے خیالات تعلیمی نظام اور جمہوری معاشروں کو مضبوط کرتے ہیں۔
پاکستان نے ایران مخالف قرارداد کیخلاف ووٹ دیکر اصولی مؤقف اختیار کیا: ایرانی سفیر رضا امیری مقدم
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل براہِ راست اس کی نوجوان نسل سے جڑا ہوا ہے، ہمارے ملک کی ثقافتی وراثت وسیع اور نوجوان آبادی زیادہ ہے، اس لئے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ تعلیم نوجوانوں میں نہ صرف تجسس، قابلیت اور کردار کو پروان چڑھائے بلکہ یہ ان کو تنقیدی سوچ، اخلاقی عمل اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنائے۔ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت اس بنیادی حق کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے اور باہمی رابطوں پر مبنی عالمی منظرنامے میں تعلیم کوعملی مہارتوں، جدید علوم، اخلاقی اقدار اور تنوع کے احترام کو یکجا کرنا چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے، تحقیق اور ایجاد کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل تعلیم میں اضافے کی کوششیں اس بدلتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ تکنیکی اور پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت نوجوانوں کو قابلِ روزگار مہارتوں سے آراستہ کرنے اور محنت کی عظمت کو باور کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے اہم ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورکس پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مہارتوں کے فروغ کےلئے کیے جانے والے قومی اقدامات نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کیلئے تیار کررہے ہیں اور تربیت کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں روزگار، کاروبار اور عالمی سطح پر شمولیت کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔خواتین، مدارس کے طلباءاور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں تک مواقع بڑھانے والے اقدامات سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ترقی کے ثمرات سب کو یکساں طور پر میسر ہو۔
صدر مملکت نے کہا کہ تعلیم اس وقت پروان چڑھتی ہے جب خاندان، معاشرہ، اساتذہ، ادارے اور نجی شعبہ مل کر کام کرتے ہیں اور جب طلباء خود اپنے علمی ماحول کو سنوارنے میں حقیقی طور پر شامل ہوں۔ آج کے دن ،میں تمام متعلقہ افراد اور اداروں سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ تعلیم کو قومی ترجیح کے طور پر تسلیم کریں گے اور اپنے نوجوانوں کو ایک ہنر مند، روشن خیال اور مضبوط پاکستان کی تعمیر میں شراکت دار بنائیں گے۔
صدر اور وزیر اعظم کاچترال میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار، امدادی کاروائیاں تیز کرنے کا حکم
صدر مملکت نے دعا کی کہ ہماری اجتماعی کوششیں آنے والی نسلوں کےلئے امن، ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہوں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: صدر مملکت نے نوجوانوں کو نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ