بھارتی ویمن کرکٹر سمرتی مندھانا اور میوزک کمپوزر پالاش مچل کی شادی منسوخ ہونے کی وجوہات سے متعلق نئے سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔

گزشتہ دسمبر میں بھارتی ویمن کرکٹر سمرتی مندھانا اور میوزک کمپوزر پالاش مچل کی شادی منسوخ ہونے کے بعد اب اس معاملے سے جڑی نئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔

تازہ انکشافات کے مطابق شادی کی تقریبات کے دوران ہی سمرتی کو دھوکے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خود کو سمرتی مندھانا کا بچپن کا دوست کہنے والے اداکار و پروڈیوسر ودیان مانے نے نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ نومبر 2025 میں منعقد ہونے والی شادی کی تقریبات کے دوران پالاش مچل کو ایک اور خاتون کے ساتھ نازیبا حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

ان کے مطابق یہ واقعہ شادی کے مقام پر ہی پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر دلہے کی حرکات سب کے سامنے آگئیں۔

ودیان مانے نے کہا کہ بھیانک صورتحال تھی، وہاں موجود سمرتی کی ساتھی خواتین کرکٹرز نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے پالاش مچل کی پٹائی کردی۔

ودیان مانے نے مزید الزام لگایا کہ پالاش مچل نے ان سے 40 لاکھ روپے کا مالی دھوکہ بھی کیا، تاہم میوزک کمپوزر نے ان الزامات کو سوشل میڈیا پر ایک بیان کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔

البتہ شادی کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعے پر پالاش مچل کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ سمرتی مندھانا اور پالاش مچل کئی برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور نومبر میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے تھے۔

ابتداء میں شادی ملتوی کیے جانے کی وجہ سمرتی کے والد کی بیماری بتائی گئی جبکہ بعد ازاں دسمبر کے اوائل میں دونوں خاندانوں نے مشترکہ طور پر شادی منسوخ ہونے کا اعلان کیا اور تفصیلات کو نجی رکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سمرتی مندھانا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟