فیفا کے چیف آف گلوبل فٹبال ڈیویلپمنٹ آرسین وینگر کب پاکستان آئیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
فیفا کے چیف آف گلوبل فٹبال ڈیویلپمنٹ اور آرسنل ایف سی کے سابق کوچ آرسین وینگر نے پاکستان میں فٹبال کے بے پناہ ٹیلنٹ کی نشاندہی کی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرسین وینگر نے پاکستان میں فٹبال اکیڈمی قائم کرنے کے منصوبوں کا عندیہ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ 25 کروڑ آبادی والا پاکستان ٹیلنٹ کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے، جہاں فٹبال کو منظم انداز میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔
آرسین وینگر نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی نمائندوں سے ملاقات کی ہے اور ملک میں فٹبال اکیڈمی کے قیام پر بات چیت کی گئی ہے، جو ان کے بقول نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور فٹبال کی بنیاد مضبوط کرنے کا پہلا اہم قدم ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے دورے سے متعلق سوال پر وینگر نے کہا کہ وہ ضرور آنا چاہتے ہیں، تاہم دنیا کے 211 ممالک اور محدود وقت کے باعث شیڈول بنانا مشکل ہوتا ہے، لیکن ان کی خواہش اور منصوبہ پاکستان آنے کا ضرور ہے۔
مزید پڑھیںوزیر اعظم شہباز شریف سے وعدہ کیا ہے، جلد پاکستان آؤں گا، فیفا صدر جیانی ان فینٹینو
When a legend like Arsène Wenger talks about Pakistan, the world listens.
With 250 million people and endless raw talent, Pakistan is being recognized by one of the greatest minds in football.
???? Credit : @pakistantvglobal pic.twitter.com/3uoljuOTUm — Pakistan Football Federation (@TheRealPFF) January 24, 2026
واضح رہے کہ اسی تقریب میں فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے بھی پاکستان کا جلد دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کیے گئے وعدے کے تحت بہت جلد پاکستان آئیں گے اور فٹبال کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
“I will come to Pakistan. You now have a wonderful President of the Pakistan Football Federation who is doing a fantastic job.”
— Gianni Infantino, President FIFA pic.twitter.com/WHcC9K2ezK
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آرسین وینگر وینگر نے
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی