آزاد کشمیر میں شدید برف باری، ضلع باغ میں ایک شخص جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
آزاد کشمیر میں شدید برف باری نے گزشتہ کئی برس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ ضلع باغ کے علاقے ملوٹ میں برفانی طوفان کے باعث ایک شخص ہلاک جبکہ کئی عمارتیں اور گھر متاثر ہوئے ہیں۔ حکام نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:این ڈی ایم اے نے پہاڑی و بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور برفانی تودوں کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا
آزاد کشمیر میں حالیہ شدید برف باری کے باعث ضلع باغ کے نواحی علاقے ملوٹ میں ایک شخص برفانی طوفان کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا۔ محکمہ شاہرات و تعمیراتِ عامہ کے مطابق تحصیل دھیرکوٹ کے گاؤں نیلہ بٹ میں مارکی کی عمارت گر گئی جبکہ چمیاٹی میں 2 گھروں کو نقصان پہنچا۔
وزیر تعمیراتِ عامہ و مواصلات سردار ضیا القمر نے بتایا کہ برف باری اور ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں ہنگامی کنٹرول رومز قائم کر دیے گئے ہیں اور بھاری مشینری و ضروری آلات ہنگامی رسپانس کے لیے تیار رکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں برفباری کے کئی سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، دھیرکوٹ میں عمارتیں گرنے سے نقصان
انہوں نے کہا کہ محکمہ شاہرات کا عملہ 24 گھنٹے الرٹ رہے گا اور سڑکوں کی بروقت بحالی کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ عوام کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی مشکل کی صورت میں قریبی کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر برفباری سردار ضیا القمر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سردار ضیا القمر
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔