سانحہ گل پلازہ: مقدمہ درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سانحہ گل پلازہ کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، جس میں سانحے کی وجوہات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ نبی بخش تھانے میں درج کیا گیا ہے اور اس میں نامعلوم افراد کو ملزمان کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب گل پلازہ عمارت کو تقریباً 90 فیصد تک کلیئر کر دیا گیا ہے، سرچ آپریشن کے دوران عمارت کے ملبے سے چار ڈی وی آر (DVRs) برآمد ہوئے ہیں، جن کی مدد سے سانحے کی اصل وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے میں اہم شواہد ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے 71 افراد میں سے 20 کی لاشیں شناخت کر لی گئی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی فہرست میں 82 افراد کے نام شامل ہیں، اور تلاش جاری ہے تاکہ مزید لاشوں اور زخمیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
پولیس اور ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ ملبے تلے افراد کی بازیابی اور شواہد کی حفاظت کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں اور حادثے کے حوالے سے افواہوں سے گریز کریں تاکہ انصاف کے عمل کو متاثر نہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔