— فائل فوٹو

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں طلاق، دوسری شادی کی دھمکی سمیت گھریلو تشدد سے تحفظ اور روک تھام سے متعلق اہم قانون منظور کر لیا گیا ہے۔

مشترکہ اجلاس میں شرمیلا فاروقی کا پیش کردہ ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2025 کی منظوری دی گئی، جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگا۔

اس بل میں گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، نفسیاتی اور جنسی زیادتی ہے۔ اس قانون کے تحت بیوی کو گھورنا، اسے طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور اس کی مرضی کے خلاف گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا بھی قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج ہوگا، پی پی شریک ہوگی

اعظم نذیر تارڑ، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی اور دیگر کی مشاورت سے معاملات طے پا گئے ہیں۔

ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2025 کا اطلاق بیویوں، بچوں، بزرگ خاندان کے افراد، منہ بولے رشتہ داروں، خواجہ سرا افراد اور ایک ہی گھر میں رہنے والے دیگر افراد پر بھی ہو گا۔

قانون کے مطابق بیوی، بچوں یا گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بدسلوکی، انہیں جذباتی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا جرم تصور کیا جائے گا، جس کی سزا 6 ماہ سے 3 سال تک قید اور 20 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اس ایکٹ میں بیوی، بچوں، معذور افراد یا گھر میں رہنے والے بزرگوں کا پیچھا کرنا (اسٹاکنگ) بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، یا خاندان کے کسی فرد کی نجی زندگی اور عزتِ نفس کی خلاف ورزی کرنا بھی قابلِ سزا جرم ہو گا۔

قانون کے مطابق بیوی یا گھر کے دیگر افراد کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا۔ کسی ساتھ رہنے والے فرد پر جھوٹے الزامات عائد کرنا یا بیوی، بچوں اور دیگر زیرِ کفالت افراد کی دیکھ بھال میں غفلت برتنا بھی قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔

ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2025 میں معاشی استحصال اور جنسی زیادتی کو بھی جرائم کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 3 ماہ قید کی سزا بھی دی جا سکے گی، جو گھریلو تشدد میں ساتھ دے گا اسے بھی 6 ماہ سے 3سال تک قید اور 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: دیگر افراد کی دھمکی گیا ہے

پڑھیں:

سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق

سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت