ایڈوبی نے اپنی پی ڈی ایف فائلز کے لیے نئے اے آئی فیچرز متعارف کرا دیے ہیں، جن کی مدد سے اب پی ڈی ایف فائلز سنی بھی جاسکیں گی۔ ایڈوبی ایکروبیٹ اور ایڈوبی ایکسپریس میں شامل ان فیچرز کا مقصد کام کو تیز اور آسان بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے

نئے اپ ڈیٹ کے تحت صارفین اب پی ڈی ایف فائل سے آڈیو پوڈکاسٹ بنا سکتے ہیں۔ یعنی جو تحریر پی ڈی ایف میں موجود ہو، وہ خود بخود آواز میں تبدیل ہوجائے گی، جسے چلتے پھرتے بھی سنا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر طلبہ، اساتذہ، دفتری افراد اور کانٹینٹ بنانے والوں کے لیے مفید ہے۔

ایڈوبی نے ایک اور نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے پی ڈی ایف یا دیگر دستاویزات سے خودکار پریزنٹیشن بنائی جا سکتی ہے۔ صارف مالی رپورٹس، پروڈکٹ ڈاکومنٹس، تحقیقی مواد یا ویب پیجز اپ لوڈ کرے گا، جس کے بعد اے آئی خود اہم نکات نکال کر مکمل پریزنٹیشن تیار کردے گی۔

اے آئی پہلے پریزنٹیشن کا خاکہ بناتا ہے، پھر صارف کی پسند کے مطابق اس کا انداز، لمبائی اور ڈیزائن تیار کرتا ہے۔ بعد ازاں صارف اس میں تحریر، تصاویر، فونٹس، رنگ اور اینیمیشنز بھی اپنی مرضی سے تبدیل کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال

اس کے علاوہ اب پی ڈی ایف میں تبدیلی کے لیے مشکل ایڈیٹنگ کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ صارف سادہ زبان میں اے آئی کو بتا سکتا ہے کہ کیا بدلنا ہے، جیسے تحریر مختصر کرنی ہو، دوبارہ لکھنی ہو یا فارمیٹنگ درست کرنی ہو۔

ایڈوبی کا کہنا ہے کہ ان تمام فیچرز کا مقصد یہ ہے کہ پی ڈی ایف فائلز صرف پڑھنے کی چیز نہ رہیں بلکہ سننے، سمجھنے اور دوبارہ استعمال کرنے میں بھی آسان ہو جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ڈی ایف فائلز اے آئی کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس