انسان بڑھاپے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا: ایلون مسک کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدید ٹیکنالوجی کے ماہر اور کاروباری شخصیت ایلون مسک نے کہا ہے کہ بڑھاپا کوئی پراسرار یا ناقابلِ فہم عمل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سائنس مستقبل میں قابو پا سکتی ہے، وقت آئے گا جب انسان نہ صرف بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکے گا بلکہ اسے روکنے یا شاید واپس موڑنے کے امکانات بھی سامنے آئیں گے۔
یہ بیان دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک نے ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے دوران دیا۔
ایلون مسک نے کہا کہ انسانی عمر کا بڑھنا ایک خاص نظام کے تحت ہوتا ہے اور یہ کوئی غیر متوقع یا غیر منطقی عمل نہیں، میں نے کبھی کسی کو ایک بازو سے بوڑھا اور دوسرے سے جوان نہیں دیکھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جسم میں ایک اندرونی گھڑی موجود ہے جو خلیوں کو یکساں طور پر عمر رسیدہ ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سائنس دان اس اندرونی نظام کو مکمل طور پر سمجھ لیں گے، بڑھاپے کے مسئلے کا حل سامنے آ سکتا ہے، یہ پیچیدہ مسئلہ اتنا خوفناک نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں، بس اصل وجہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
قبل ازیں مسک نے ’ڈیجیٹل لافانیت‘ کا تصور بھی پیش کیا تھا، جس کے تحت انسان اپنی زندگی کی کہانیاں، یادیں اور تجربات کمپیوٹر میں محفوظ کر سکے گا، تاکہ جسم کے ختم ہونے کے بعد بھی انسان کی سوچ اور داستان زندہ رہ سکے۔ مسک کے مطابق یہ ڈیجیٹل معلومات مستقبل میں خلاء میں بھی بھیجی جا سکتی ہیں، جس سے انسانی تجربات اور علم لافانی بن جائیں گے۔
تاہم، ایلون مسک نے لمبی عمر کے ممکنہ سماجی نقصانات پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسان غیر معمولی حد تک لمبی عمر حاصل کر لے تو معاشرے میں جمود پیدا ہو سکتا ہے، نئے خیالات اور اختراعات سامنے آنے میں دشواری ہو سکتی ہے اور طاقت و اثر چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے گا، اس لیے میرا خیال میں موت کا ہونا کسی حد تک فائدہ مند ہے، ورنہ دنیا بے جان اور جمود زدہ ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس نشست میں بڑھاپے کے حل کے حوالے سے کوئی مخصوص منصوبہ یا ٹائم لائن پیش نہیں کی گئی، تاہم مسک کے خیالات نے مستقبل میں انسانی عمر اور سائنس کے کردار کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث کو نئی جہت دے دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔