’’میرے معصوم شوہر کو نہ گھسیٹو‘‘، نیہا ککڑ کا طلاق کی افواہوں پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کی معروف گلوکارہ نیہا ککڑ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک مبہم پیغام سامنے آنے کے بعد ان کی شادی سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔
تاہم اب نیہا نے ایک نئی پوسٹ کے ذریعے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے شوہر روہن پریت سنگھ اور خاندان کو اس معاملے میں گھسیٹنا درست نہیں۔
نیہا ککڑ نے انسٹاگرام اسٹوریز پر لکھا کہ لوگ ان کے ’’معصوم شوہر‘‘ اور ’’سب سے پیارے خاندان‘‘ کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں کیونکہ وہی لوگ ہیں جن کی حمایت کی بدولت وہ آج اس مقام پر ہیں۔ ان کے مطابق وہ کچھ دوسرے افراد اور نظام سے ناخوش ہیں، نہ کہ اپنی ازدواجی زندگی سے۔
گلوکارہ نے مزید کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر جذباتی انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ میڈیا بعض اوقات چھوٹی بات کو بڑا بنا دیتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ اس واقعے سے انہیں سبق ملا ہے اور اب وہ اپنی ذاتی زندگی پر کھل کر بات نہیں کریں گی۔
اپنے پیغام کے اختتام پر نیہا نے خود کو حد سے زیادہ جذباتی قرار دیتے ہوئے مداحوں سے محبت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک نئے جوش کے ساتھ واپس آئیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے معذرت بھی کی اور کہا کہ انہیں غلط سمجھا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل نیہا ککڑ نے ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ وہ ذمے داریوں، تعلقات اور کام سے وقتی وقفہ لے رہی ہیں، اور انہوں نے فوٹوگرافروں اور مداحوں سے درخواست کی تھی کہ انہیں فلمایا نہ جائے اور ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔ یہی پیغام بعد ازاں حذف کردیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی طلاق سے متعلق چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیہا ککڑ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔