سانحہ گل پلازہ حکومت کی ناکامی ہے، متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی پریس کلب میں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ غزہ کونسل آف پیس میں شمولیت کیلئے عجلت سے کام لیا گیا ہے، ہماری ہمدردی فلسطین کے ساتھ ہے، بات ہو رہی ہے کہ اس کا ممبر رہنے کے لیے ایک ارب ڈالر دینے پڑیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ حکومت کی ناکامی ہے، حکومت ناکام ہوئی ہے تو یہ سانحہ ہوا ہے، صوبائی حکومت اپنا کام کرے اور وفاقی حکومت اپنا حصہ دالے، جن کا نقصان ہوا ہے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، غزہ کونسل آف پیس میں شمولیت پر عجلت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گل پلازہ کے دورے اور کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے۔ شاہد خاقان عباسی کے گل پلازہ پہنچنے پر انہیں تاجروں نے گھیر لیااور اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد یہاں پر فوٹوگرافی نہیں تھا، ہمارے لوگ شہید ہوئے ہیں، 1200 دکانیں جلی ہیں، یہ سانحات کیوں ہوتے ہیں، اصل مقصد وہ ہے، سانحات کے پیچھے حکومتوں کی نااہلی ہے، حکومت ناکام ہوئی ہے تو یہ سانحہ ہوا ہے، کراچی میں جو دیگر دکانیں اور مارکیٹیں موجود ہیں حکومت ان کے لیے کیا کررہی ہے، مزید ایسے سانحات نہیں ہوں، حکومت اس کے لیے کیا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات میں شناخت کا عمل مشکل ہوتا ہے، حکومت اپنا کردار ادا کرے تاکہ شہدا کی شناخت ہو سکے، ورثاء کی بات سنی جائے، ان کی بحالی میں مدد کی جائے، یہ سانحات ہوتے کیوں ہیں؟ کراچی میں ہزاروں ہائی رائیز بلڈنگس موجود ہیں، سب میں یہی مسائل ہیں، صوبائی حکومت اپنا کام کرے اور وفاقی حکومت اپنا حصہ دالے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رات کے اندھیروں میں ترامیم نہیں ہوتی، عوام کے سامنے رکھنا پڑھتا ہے، جب آپ آئینی ترمیم میں سب کی رائے شامل نہیں کرتے تو معاملات حل نہیں ہوتے، گل پلازہ کے معاملے پر بھی عوام کی بات سنی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کونسل آف پیس میں شمولیت کیلئے عجلت سے کام لیا گیا ہے، ہماری ہمدردی فلسطین کے ساتھ ہے، بات ہو رہی ہے کہ اس کا ممبر رہنے کے لیے ایک ارب ڈالر دینے پڑیں گے، ہم سب سے پیسے مانگتے ہیں، ایک ارب ڈالر بڑی بات نہیں، ہر پاکستانی 4 ڈالر دے دے تو جمع ہو جائیں گے لیکن کیا ہم اس کی شرائط سے متفق ہیں اس بات سے عوام کو آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی حکومت اپنا نے کہا کہ گل پلازہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔