متنازعہ ٹویٹس کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17 ،17 سال قید کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
متنازعہ ٹویٹس کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17 ،17 سال قید کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کا فیصلہ سنایا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے آج عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، جب کہ عدالت عالیہ نے آج کے دن تک ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہان پر جرح کا حکم دے رکھا تھا، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دیگر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیا گیا۔
کیس میں پراسکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا، بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے سٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ پراسکیوشن کی جانب سے کیس میں مجموعی طور پر 5 گواہان پیش کئے گئے۔
اِسی طرح پراسکیوشن کی جانب سے 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں پیش کیا گیا، ایمان مزاری اور ہادی علی پر پی ٹی ایم، ودیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے کا الزام تھا، ملزمان پر ریاستی اداروں کیخلاف مواد کی تشہیر کا بھی الزام تھا۔
پراسکیوشن کی جانب سے چالان میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مختلف ٹویٹس بھی بطور ثبوت فراہم کی تھی، ایمان مزاری کی ریاست مخالف تقریر بھی عدالت میں پیش کی گئی تھی۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوسات،سات سال قید کی سزا جب کہ سیکشن دس کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال اور 26 اے کے تحت 2، 2 سال قید کی سزا سنائی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچبوترے سے اٹھتی آوازیں: پچوانہ میں مکالمہ اور معافی کی روایت رومانیہ کی اتحاد کی 167 ویں سالگرہ بیوی کو گھورنا،طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم قرار، پارلیمنٹ نے قانون منظور کرلیا پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات تعلیم کے شعبے میں بھی مستحکم پاکستان اور صومالیہ کا سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے پر اتفاق ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ازبکستان–پاکستان اسٹریٹجک شراکت: علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون میں نیا بابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازعہ ٹویٹس کیس سال قید
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔