data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹوئٹس کیس میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنادی۔ 

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی، فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے سنایا جبکہ عدالت کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نے سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات پر مبنی ٹوئٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، ان ٹوئٹس کا مقصد عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانا اور نفرت پیدا کرنا تھا، جو قانون کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔

فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد اور رانا عثمان عدالت میں موجود تھے، تاہم ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے کوئی بھی وکیل کمرۂ عدالت میں پیش نہ ہوا۔

عدالت نے پیکا ایکٹ کے مختلف سیکشنز کے تحت سزائیں سناتے ہوئے قرار دیا کہ سیکشن 9 کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی کو پانچ، پانچ سال قید اور 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

اسی طرح سیکشن 10 کے تحت دونوں کو دس، دس سال قید اور تین، تین کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ مزید برآں سیکشن 26 اے کے تحت دو، دو سال قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق مختلف دفعات کے تحت دی جانے والی سزاؤں کو یکجا کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔ تحریری فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

فیصلے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے ایمان مزاری اور ان کے شوہر نے گزشتہ تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں گزاریں، تاہم جمعہ کی صبح عدالت کے احاطے سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں کو تحویل میں لے لیا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی سال قید اور ہادی علی کو لاکھ روپے کی سزا کے تحت

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی