Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:42:24 GMT
سانحۂ گل پلازا: ریسکیو آپریشن کے 8ویں روز قرآن پاک اور لوح قرآنی بالکل سالم برآمد
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
سانحۂ گل پلازا میں ریسکیو آپریشن کے 8ویں روز ریسکیو ٹیم کو قرآن پاک اور لوح قرآنی برآمد ہوئے، جو خوفناک آگ کے باوجود مکمل طور پر محفوظ رہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو عملے نے اس مقام سے قرآن شریف اور لوح قرآنی نکالی جہاں چاروں طرف آگ سے شدید نقصان ہوا تھا، مگر یہ مقدس کتابیں بالکل سالم رہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم کی کوششوں کے دوران یہ اہم مذہبی اشیاء محفوظ حالت میں ملیں، جس نے ریسکیو عملے اور عوام کو حیرت میں ڈال دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گل پلازا کی سرچنگ کے دوران مسجد اور دکانوں میں رکھی قرآن شریف کی متعدد جلدیں بھی محفوظ حالت میں برآمد ہو چکی ہیں، جو آگ کے باوجود بچ گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔