سانحۂ گل پلازہ پر آل کراچی تاجر الائنس نے حکومتی اقدامات پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ سنگین غفلت کا نتیجہ ہے، اس لیے قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف درج ہونا چاہیے۔
آل کراچی تاجر الائنس کے رہنما عتیق میر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکمران معمولی دوروں کے لیے بھی ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں، مگر گل پلازہ جیسے بڑے سانحے کے وقت آگ بجھانے کے لیے کوئی مؤثر انتظام نظر نہیں آیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آگ بجھانے کے لیے کوئی ہیلی کاپٹر آیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اس غفلت پر حکومت کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
الائنس کے چیئرمین حکیم شاہ نے کہا کہ پہلے دن سے کے ایم سی اور حکومتِ سندھ کی نااہلی واضح ہے۔ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ حقیقت میں بمشکل چند فیصد کام ہوا ہے۔ ان کے مطابق سیاستدان سیاست میں مصروف ہیں، مگر متاثرہ تاجروں کو انصاف اور ریلیف کون دے گا؟ انہوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
آل کراچی تاجر الائنس کے حکیم شہزاد نے کہا کہ اس سانحے میں حکومتِ سندھ کی نااہلی کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں اور پرانے نقشے نکال کر سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کو فوری مدد دی جائے اور معاوضہ مہینوں یا سالوں کے بجائے دنوں میں ادا کیا جائے، بصورتِ دیگر تاجر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے، حتیٰ کہ پورے ملک میں دکانیں بند کرنے کا بھی آپشن موجود ہے۔
تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ سانحے کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے مگر اب تک ملبہ نہیں اٹھایا گیا، جبکہ متاثرین دربدر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ایک بار پھر “نامعلوم” افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، حالانکہ اب یہ نامعلوم نہیں رہنے چاہییں۔
رضوان عرفان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز نے عمارت کے اندر جانے کے بجائے باہر سے دیواروں پر پانی ڈالا، جو فائر بریگیڈ کی ناقص حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ لاکھ روپے کی فوری امداد ناکافی ہے، عید قریب ہے اور تاجروں کو مال کی مد میں تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کے پاس اختیار ہے کہ فوری طور پر متاثرین کو مالی مدد فراہم کریں۔
تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور متاثرہ تاجروں کو فوری اور مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تاجروں کو نے کہا کہ انہوں نے کا کہنا کے خلاف

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا